میڈیا کا سپریم کورٹ میں استدلال’صحافت پر دہشت گردی کے طورپر مقدمہ نہیں چلایاجاسکتا‘۔

,

   

میڈیاتنظیموں نے چیف جسٹس آف انڈیا پر زوردیاکہ وہ نوٹس لیں اور اس معاملے میں مداخلت کریں ”اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے“۔

نیوز کلک کے بانی اور ایڈیٹر ان چیف پربیر پورکایاستھا اور اس کے ایچ آر سربراہ امیت چکرورتی کی دہلی پولیس کے ہاتھوں 3اکٹوبر کے روز یو اے پی اے قانون کے تحت گرفتاری کے بعد 15میڈیاتنظیموں نے چیف جسٹس آف انڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ صحافیوں سے منسلک تفصیلات اور الکٹراک آلات کی پولیس ضبطی گائیڈلائنس بنائیں۔

https://x.com/DigipubIndia/status/1709523526443847728?s=20

سی جے ائی ڈی وائی چندر چوڑ کو لکھے گئے ایک مکتوب میں مختلف میڈیا تنظیموں نے عدلیہ پرزوردیاکہ سچ بولنے اور”سخت حقائق پیش کرتے ہوئے شہریوں کو معلوم فراہم کرنیوالے۔

جو جمہوریت کو صحیح سمت میں آگے بڑھانے کاکام کرتے ہیں“ ویسے صحافیوں کی حالات زار کا جائزہ لیں۔مذکورہ لیٹر میں کہاگیاہے کہ ”آج ہندوستان میں صحافیوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے آپ کو انتقامی کاروائی کے خطرے کے زیر اثر محسوس کررہا ہے او ریہ ضروری ہے کہ عدلیہ ایک بنیادی سچائی کے ساتھ طاقت کامقابلہ کرے۔

یہ ایک ایسا ہے کہ جس کے لئے ہم سب جوابدہ ہیں“۔

نیوز کلک کے دفاتراور اس کے ملازمین کے رہائش گاہوں پر حالیہ چھاپوں اور عصری آلات کی ضبطی پر اور اس کے بانی اور ایچ آر سربراہ کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کرنے کے معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈیٹا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا خدشہ بھی مکتوب میں ظاہر کیاگیاہے۔

مکتوب میں کہاگیا ہے کہ ”یو اے پی اے کا اطلاق دراصل خاموش بیٹھانے کا حربہ ہے۔ میڈیا کے خلاف دہشت گردی کے طور پر مقدمہ نہیں چلایاجاسکتا ہے“۔

پندرہ تنظیمیں جس میں ڈیجی پب نیوزانڈیا فاونڈیشن‘ انڈین ویمنس پریس کارپس‘ پریس کلب آف انڈیا‘ نئی دہلی‘ فاونڈیشن فار میڈیاپروفیشنلس‘ نٹ ورک برائے ویمن ان میڈیا‘ انڈیا‘ چندی گڑھ پریس کلب‘ نیشنل الائنس برائے جرنلسٹس‘کیرالا یونین آ ف ورکنگ جرنلسٹ‘ فری اسپیچ کلکٹیو‘ ممبئی پریس کلب‘ ارونچل پردیش یونین برائے ورکنگ جرنلس‘ پریس اسوسیشن آف انڈیا‘ گوہاٹی پریس کلب اور برہین ممبئی یونین برائے جرنلسٹس شامل ہیں۔