ابھیشک منو سنگھوی نے حکومت کے موقف کی تائید کی، چیف جسٹس بی آر گوائی کے حکومت سے کئی سوالات
حیدرآباد 5 اگست (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے تلنگانہ کے میڈیکل اور بی ڈی ایس کورسیس میں امیدواروں کے مقامی ہونے کی اہلیت پر سماعت کو مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے 2017ء کے داخلوں سے متعلق قانون میں 2024ء میں ترمیم کرتے ہوئے انٹرمیڈیٹ تک 4 برسوں تک تلنگانہ میں تعلیم حاصل کرنے والے امیدواروں کو مقامی کوٹہ کے تحت میڈیکل اور ڈینٹل کالجس میں داخلہ کی سہولت فراہم کی تھی۔ تلنگانہ ہائیکورٹ نے اپنے حالیہ فیصلہ میں کہا تھا کہ ریاست کے مستقل شہریوں کو محض اس لئے داخلوں سے محروم نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کچھ عرصہ تک ریاست کے باہر مقیم رہے۔ چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے آج فریقین کی تفصیل سے سماعت کی۔ تلنگانہ حکومت کے وکیل ابھیشک منو سنگھوی نے حکومت کی جانب سے 4 سال تعلیم کی شرط کو حق بجانب قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے طے شدہ قواعد میں ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ صدارتی حکمنامہ کی بنیاد پر تلنگانہ حکومت نے مقامی اہلیت کا فیصلہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عدالتیں کسی بھی شخص کے مقامی ہونے کا تعین نہیں کرسکتیں بلکہ یہ کام ریاستی حکومت کا ہے۔ چیف جسٹس بی آر گوائی نے کہاکہ اگر تلنگانہ کے کسی جج کا بہار تبادلہ ہوتا ہے اور اُن کے فرزند نویں تا بارہویں جماعت تک بہار میں تعلیم حاصل کریں تو کیا وہ مقامی قرار پائیں گے۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ ایک طالب علم جو تلنگانہ میں پیدا ہوا اور یہیں پر افزائش ہوئی لیکن دسویں اور گیارہویں جماعت کی تعلیم ریاست سے باہر ہوئی ہے تو کیا وہ مقامی اہلیت سے محروم ہوگا۔ تلنگانہ کے کسی آئی اے ایس آفیسر کی دہلی میں پوسٹنگ ہو اور اُن کے بچہ 2 سال تک ریاست کے باہر تعلیم حاصل کریں تو کیا یہ بچے داخلوں کے اہل قرار پائیں گے۔ جسٹس ونود چندرن نے کہاکہ ایک امیدوار جو تلنگانہ میں تعلیم کے بغیر 4 سال تک موجود رہا وہ تو داخلہ کا اہل ہوچکا ہے لیکن جس نے تعلیم کے مقصد سے دیگر ریاستوں کا سفر کیا اُسے کیونکر محروم رکھا جائے گا۔ ابھیشک منو سنگھوی نے کہاکہ ہائیکورٹ نے مستقل قیام کی اصطلاح مدون کی ہے جو ریاستی حکومت کا اختیار ہے۔ سپریم کورٹ نے 20 ستمبر کو تلنگانہ ہائیکورٹ کے احکامات پر حکم التواء جاری کیا تھا۔ مقامی امیدوار کی اہلیت کو چیلنج کرتے ہوئے بعض امیدوار سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ کے زیردوران ہونے کے نتیجہ میں تلنگانہ میں داخلوں کا عمل تعطل کا شکار ہے۔1