نیویارک ؍ پیرس ۔ 22 ستمبر (ایجنسیز) فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کو کہا کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے، جس کے باعث بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔میکرون نے نیویارک میں ٹرمپ سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں بحیرہ احمر کی صورتحال اور تیل بردار بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی بات ہوئی، کیونکہ یہ عالمی قیمتوں کیلئے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے اس گفتگو کو بہت اچھی اور انتہائی تعمیری قرار دیا۔میکرون نے ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا: نیویارک پہنچنے کے بعد میری صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے مشرق وسطیٰ میں اہم تنصیبات کے تحفظ اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے کے ذریعہ توانائی کی منڈیوں میں کشیدگی کم کرنے کیلئے مل کر اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔دریں اثنا فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد کا مسودہ تیار کر رہا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کیلئے دوبارہ کھولنا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو ایک سفارتی ذرائع نے یہ اطلاع دی۔ذرائع نے مزید کہا: فرانس امریکیوں اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل میں ایک ایسی قرارداد کا مسودہ تیار کرنا چاہتا ہے، جو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کی ضمانت دے۔
واضح رہے کہ گزشتہ اپریل میں روس اور چین نے خلیجی ممالک اور امریکہ کی حمایت سے بحرین کی جانب سے تیار کردہ قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا تھا۔ اس مسودے میں بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔یوکرین میں جاری جنگ کے حوالے سے میکرون نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کے طریقوں پر بات کی۔انہوں نے مزید کہا: ہم اپنی کوششیں متحد کریں گے تاکہ ایسی جنگ بندی تک پہنچا جا سکے جو توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور یوکرین میں شہری تنصیبات پر حملے روک دے۔فرانسیسی صدر نے شہری آبادی کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں روس اور یوکرین کے درمیان امن کے قیام کی شرائط پر سنجیدہ مذاکرات جلد از جلد شروع کرنے چاہئیں۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب پر زور دیا کہ کیف کو فضائی دفاعی نظام فراہم کیے جائیں، ’’کیونکہ یہ ایک دفاعی اقدام ہے۔‘‘