میں جزوقتی سیاستداں اور کل وقتی تاجر ہوں : ملاریڈی

   

کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کیلئے بنگلور میں ڈی کے شیو کمار سے ملاقات کی تھی

حیدرآباد : /19 مارچ (سیاست نیوز) جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات قریب آرہے ہیں ویسے ویسے بی آر ایس پارٹی خالی ہوتی جارہی ہے ۔ بڑے پیمانے پر بی آر ایس کے قائدین کانگریس اور بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں ۔ اسمبلی حلقہ خیریت آباد کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے رکن اسمبلی ڈی ناگیندر کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں ۔ مزید کئی ارکان اسمبلی کانگریس سے رابطہ میں ہونے کی اطلاعات ہے ۔ اسمبلی حلقہ میڑچل کے رکن اسمبلی سابق وزیر ملاریڈی بھی مستعفی ہونے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہے ہیں ۔ انہوں نے یہ بات بی آر ایس پارٹی کے دوسرے ارکان اسمبلی کے ساتھ کی ہے ۔ بی آر ایس نے حلقہ لوک سبھا ملکاجگیری کیلئے آر لکشما ریڈی کو پارٹی امیدوار بنایا ہے ۔ انہوں نے پارٹی کے دوسرے ارکان اسمبلی کے ساتھ انتخابی حکمت عملی تیار کرنے کیلئے ملا ریڈی کی قیام گاہ پر اجلاس منعقد کیا ہے ۔ اس اجلاس میں کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ بالخصوص ملا ریڈی کے پارٹی تبدیل کرنے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس موقع پر بات کرتے ہوئے ملا ریڈی نے کہا کہ وہ ایک ’’جزوقتی سیاستداں اور کل وقتی تاجر‘‘ ہیں ۔ کاروبار کے تعلق سے ان کے کچھ مسائل ہیں ان کے حل کیلئے ہمیں چند سیاسی فیصلے لینے ہوں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ملا ریڈی نے پارٹی تبدیل کرنے کا من بنالیا ہے اور جلد ہی یہ واضح ہوجائے گا کہ وہ کونسی پارٹی میں شامل ہوں گے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ملا ریڈی نے اس اجلاس میں انکشاف کیا کہ کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کیلئے انہوں نے بنگلورو میں کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کی تھی کیونکہ تلنگانہ کے چند قائدین کاروباری ضروریات کی وجہ سے انہیں کانگریس میں شامل ہونے سے روک رہے ہیں ۔ اس اجلاس میں بی آر ایس کے تین ارکان اسملبی نے ملا ریڈی کو سمجھانے اور منانے کی کوشش کی تاہم ملا ریڈی نے بی آر ایس میں برقرار رہنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا ۔ ایسا لگتا ہے ملا ریڈی کا زیادہ تر جھکاؤ کانگریس کی طرف ہے ۔ اگر یہ ممکن نا ہو تو وہ بی جے پی میں شامل ہونے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ ساتھ ہی یہ اطلاع ہے کہ ان کے داماد حلقہ اسمبلی ملکاجگری کے رکن اسمبلی ایم راج شیکھر ریڈی نے اجلاس میں واضح کردیا کہ وہ بی آر ایس میں شامل رہیں گے ۔ اُسی وقت ملا ریڈی نے کہا کہ ان کا اپنے داماد کے فیصلے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر وہ ضرور پارٹی تبدیل کریں گے ۔ بی آر ایس پارٹی قیادت کی ہدایت پر بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کا اجلاس ملا ریڈی کی قیامگاہ پر منعقد ہوا تھا ۔ 2