میں حیدرآباد سے تیار ہوں، کیا آپ کسی اور حلقہ سے تیار ہیں! جگاریڈی

   

اسد اویسی کو جگاریڈی کا چیلنج

حیدرآباد۔22۔مئی (سیاست نیوز) ’’ میں لوک سبھا حیدرآباد سے مقابلہ کے لئے تیار ہوں‘‘ کاگذار صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی جگا ریڈی نے بیرسٹر اسد الدین اویسی کی جانب سے راہول گاندھی کو کئے گئے چیالنج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر مجلس کی جانب سے کئے گئے چیالنج کے مسئلہ کو آسانی سے ختم ہونے نہیں دیں گے اور اس سلسلہ میں مسز سونیا گاندھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس بات کی خواہش کریں گے کہ انہیں لوک سبھا حیدرآباد سے مقابلہ کے لئے اجازت دی جائے اور پارٹی کا امیدوار بنایا جائے۔ جگا ریڈی نے راہول گاندھی کو حیدرآباد سے مقابلہ کے چیالنج پر کہا کہ اسد الدین اویسی سے مقابلہ کے لئے وہ کافی ہیں ۔ انہوںنے اسد الدین اویسی کو چیالنج کرتے ہوئے کہا اگر وہ میدک سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں تو وہ بھی لوک سبھا حیدرآباد سے کانگریس کے امیدوار کے طور پر مقابلہ کے لئے تیار ہیں۔انہوںنے اسد الدین اویسی سے استفسار کیا کہ آیا وہ حیدرآباد کے علاوہ کسی اور لوک سبھا کی نشست سے مقابلہ کے لئے تیار ہیں! جگاریڈی نے دعویٰ کیا کہ شہر حیدرآباد میں وہ اسد الدین اویسی کو بہ آسانی شکست دے سکتے ہیں کیونکہ شہر حیدرآباد میں مسلم رائے دہندے پرانے شہر کی ترقی نہ ہونے کے سبب اسدالدین اویسی سے ناراض ہیں اور رکن پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی ایک ہی سیاسی جماعت کے ہونے کے باوجود بھی پرانے شہر کی کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے۔ انہوںنے بتایا کہ وہ اس مسئلہ پر مسز گاندھی کو جلد مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس سلسلہ میں متوجہ کروائیں گے ۔جگاریڈی نے رکن پارلیمنٹ حیدرآباد پر الزام عائد کیا کہ وہ کسی بھی مسئلہ پر عوامی تحریک کا حصہ نہیں رہے ہیں اور نہ ہی کسی تحریک کا آغاز کیا ہے۔ انہوںنے 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے کئے گئے وعدہ کو پورانہ کئے جانے کے باوجود ٹی آرایس کے خلاف تحریک نہ شروع کئے جانے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ کسانوں اور دیگر مسائل پر بھی اسد الدین اویسی اور ان کی سیاسی جماعت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ انہوںنے کہا کہ اسدالدین اویسی کو راہول گاندھی پر تنقید کا کوئی حق حاصل نہیں ہے کیونکہ گاندھی خاندان نے اس ملک کے لئے جو قربانیاں پیش کی ہیں اس کی کوئی اور خاندان مثال پیش نہیں کرسکتا ۔جگاریڈی نے کہا کہ کانگریس کے اقتدار میں کانگریس کے چیف منسٹر س کی ستائش اور ان کی تائید کرنے والوں کو زیب نہیںدیتا کہ وہ کانگریس پر تنقید کریں۔