70 سال عمر کا کوٹہ بحال، درخواستوں کا مفت ادخال، صدرنشین حج کمیٹی محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد۔/7 فروری، ( سیاست نیوز) مرکزی وزارت اقلیتی امور نے نئی حج پالیسی کا اعلان کیا ہے جو آئندہ پانچ برسوں تک نافذ رہے گی۔ نئی پالیسی کے مطابق حج پیاکیج کے تحت مصارف میں کمی ہوگی اور فی عازم 50 ہزار کی بچت ہوگی۔وزارت اقلیتی امور نے ٹوئٹر پر نئی پالیسی کے اہم نکات پیش کئے جس کے مطابق عازمین حج کو حج پیاکیج پر تقریباً 50 ہزار روپئے کی کمی واقع ہوگی۔ حج درخواست گذاروں سے درخواستوں کے ادخال کی کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ درخواستوں کا آن لائن ادخال مفت رہے گا۔ حج اخراجات میں کمی کے لئے حکومت نے حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے بیاگیج کی سربراہی کے طریقہ کار کو ختم کردیا ہے۔ اسی دوران صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی محمد سلیم اور ایگزیکیٹو آفیسر بی شفیع اللہ نے حج پالیسی میں عازمین حج کو دی گئی رعایتوں کا خیرمقدم کیاہے۔ محمد سلیم نے حج کمیٹی آف انڈیا کے اجلاس میں حج اخراجات میں کمی کی سفارش کی تھی جسے مرکز نے قبول کرتے ہوئے حج مصارف میں 50 ہزار روپئے کی کٹوتی کو یقینی بنایا ہے۔ نئی حج پالیسی کے مطابق 70 سال سے زائد عمر کے عازمین کے کوٹہ کو بحال کیا گیا اور وہ قرعہ اندازی کے بغیر ہی منتخب قرار پائیں گے۔ ان کے مددگار کے طور پر بیوی، بھائی، بہن، فرزند، دختر، پوتا ، پوتی، داماد، بہو، بھانجہ اور بھتیجہ کو ساتھ رکھنے کی اجازت رہے گی۔ ہندوستان کیلئے منظورہ کوٹہ 1.75 لاکھ ہے اس کا 80 فیصد کوٹہ حج کمیٹیوں کو الاٹ کیا جائے گا اور خانگی آپریٹرس کیلئے 20 فیصد نشستیں رکھی گئی ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ پہلی مرتبہ حج کی سعادت حاصل کرنے والے افراد حج کمیٹی سے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عازمین حج کیلئے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی پیشکشی لازمی کردی گئی ہے۔ 45 سال سے زائد عمر کی خواتین مَحرم کے بغیر حج کی سعادت کیلئے درخواستیں داخل کرسکتی ہیں۔ عام زمرہ کے مرد عازمین حج کور میں کم سے کم ایک اور زیادہ سے زیادہ چار افراد کی اجازت ہوگی۔ محمد سلیم نے بتایا کہ ملک میں امبارگیشن پوائنٹس کی تعداد 25 کردی گئی ہے جس میں آندھرا پردیش کا وجئے واڑہ شہر شامل ہے۔ ہر 300 عازمین کیلئے ایک خادم الحجاج کا انتخاب کیا جائے گا۔ر