28 ڈسمبر سے عوام سے درخواستوں کی طلبی کا امکان ۔ می سیوا مراکز سے درخواستیں داخل کرنے کی سہولت ہوگی
موجودہ راشن کارڈس میں نئے ناموں کے اندراج اور غلطیوں کو درست کرنے کی سہولت گراما اور بستی سبھاؤں کے ذریعہ اہل افراد کا انتخاب ہوگا
حیدرآباد۔ 23 ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاست میں نئے راشن کارڈ کی اجرائی کیلئے کانگریس حکومت نے ہری جھنڈی دکھادی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ 28 ڈسمبر سے ’’می سیوا‘‘ مراکز سے آن لائن میں درخواستیں داخل کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ فیلڈ لیول پر اہل افراد کا انتخاب کرنے کیلئے منصوبے تیار کئے جارہے ہیں۔ ضروری دستاویزات کے ساتھ آن لائن میں درخواستیں داخل کرنے کے بعد دیہی علاقوں میں گرام سبھاؤں اور شہری علاقوں میں بستی سبھاؤں کا اہتمام کیا جائے گا۔ سارے عمل کا جائزہ لینے اور نگرانی رکھنے کیلئے نوڈل آفیسرس کا تقرر کیا جائے گا۔ تلنگانہ میں فی الحال 89.98 لاکھ راشن کارڈس ہیں، جس میں سے 54.39 لاکھ راشن کارڈ نیشنل فوڈ سیکوریٹی ایکٹ (این ایف ایس اے) کے تحت جاری کئے گئے۔ 33.59 لاکھ راشن کارڈس اسٹیٹ فوڈ سیکوریٹی کے تحت جاری کئے گئے ہیں۔ ریاست میں نئے راشن کارڈس کی اجرائی کیلئے لاکھوں خاندان بڑی بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ صرف چاول ہی نہیں آروگیہ شری کے بشمول دیگر اسکیمات سے استفادہ اٹھانے میں راشن (فوڈ سیکوریٹی) کارڈس لازمی ہوگئے ہیں۔ کانگریس حکومت نے راجیو آروگیہ شری ہیلت اسکیم کی رقم کو 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپئے کردیا گیا ہے۔ راشن کارڈ پر درج ناموں کے لحاظ سے ہر فرد کو 6 کیلو چاول سربراہ کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد میں راشن کارڈ ہولڈرس کو گیہوں بھی دیا جارہا ہے۔ ماضی میں فی کیلو چاول صرف ایک روپیہ میں سربراہ کیا جارہا تھا تاہم کورونا بحران کے بعد گذشتہ تین سال سے مفت چاول تقسیم کیا جارہا ہے۔ اناپورنا انتودیا یوجنا کارڈز ہولڈرس کو ماہانہ ایک کیلو شکر سربراہ کی جارہی ہے۔ راشن کارڈز کے اہل افراد کا انتخاب کرنے کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے جائیں گے۔ محکمہ سیول سپلائز کے ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ موجودہ قواعد پر ہی نئے راشن کارڈ جاری کرنے کے بھی امکانات ہیں۔ ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ راشن کارڈس میں ناموں کے اندراج اور غلطیوں کو صحیح کرنے کا بھی موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ اسمبلی انتخابات سے قبل اس کیلئے 11.02 لاکھ درخواستیں وصول ہوئیں۔ موجودہ راشن کارڈس میں بچوں اور ارکان خاندان کے ناموں کا اندراج کرنے کیلئے درخواستیں وصول ہوئیں۔ بی آر ایس حکومت کی جانب سے اڈیٹ آپشن نہ دینے کی وجہ سے یہ عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ کانگریس حکومت نے نئے راشن کارڈس کیلئے درخواستیں وصول کرنے کے ساتھ راشن کارڈ میں نئے ناموں کے اندراج کیلئے بھی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 11.02 لاکھ درخواستوں کے ذریعہ 15.87 لاکھ افراد کے نام موجودہ راشن کارڈس میں شامل کرنے کی درخواستیں وصول ہوئیں۔ اس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ سیول سپلائز کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد 6,47,297 راشن کارڈس جاری کئے گئے ہیں جس میں استفادہ کنندگان کی تعداد 20,69,033 ہے۔ ریاست میں فی الحال 2.82 کروڑ سے زیادہ راشن استفادہ کنندگان ہیں۔ اس میں (NFSA) کے تحت 1,91,69,00 (68 فیصد) اور ریاستی کارڈس سے متعلق 91,30,000 (32 فیصد) شامل ہیں۔ن