تجارتی اداروں کو ہراسانی کا سامنا ، مالکین سے معمول کی وصولی ، رقم نہ دینے پر مقدمات درج
حیدرآباد۔9۔جولائی (سیاست نیوز) شہر میں نئے پولیس اسٹیشنوں کا قیام شہریوں کے لئے سہولتوں کے بجائے زحمت ثابت ہونے لگا ہے کیونکہ اب تک رات کے اوقات میں دکانات کھلی رکھنے والے تاجرین کسی ایک پولیس اسٹیشن کے اہلکارہراساں کرتے تھے لیکن اب انہیں مختلف پولیس اسٹیشن سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں قائم کئے گئے پولیس اسٹیشنوں سے وابستہ اہلکار اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے رات کے اوقات میں کاروبار کرنے والوں کو ہراساںکر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق رات دیر گئے یعنی 1 بجے تک اشیائے خورد و نوش کے علاوہ پان شاپ ‘ آئسکریم پارلر‘ دودھ کی دکانات اور دھابوں کو اجازت حاصل ہے لیکن دیگر تجارتی اداروں کو قوانین کے مطابق 11 بجے بند کردیا جانا چاہئے اگر کسی منی سوپر مارکٹ یا کرانہ شاپ کو بھی رات میں 11 بجے کے بعد کھلا رکھا جاتا ہے تو ایسی صورت میں پولیس کی جانب سے تصویر کشی کرتے ہوئے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں جبکہ ان تجارتی اداروں میں بھی اشیائے خورد و نوش فروخت کی جاتی ہیں اور آئسکریم بھی ان سوپر مارکٹس میں فروخت ہوتی ہیں لیکن انہیں پولیس اس زمرہ میں شمار کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں اگر وہ 11 بجے کے بعد اپنا کاروبار جاری رکھنا چاہتے ہیں تو تجارتی اداروں کے مالکین سے معمول طلب کیا جا رہاہے لیکن متعلقہ پولیس اسٹیشن ہی نہیں بلکہ اطراف و اکناف کے پولیس اسٹیشنوں سے وابستہ وردی پوش اہلکار ان تاجرین سے وصولی کرنے لگے ہیں۔ نئے قائم کئے گئے پولیس اسٹیشن ٹولی چوکی کے عملہ کے علاوہ ہمایوں نگر ‘ گولکنڈہ‘ گڈی ملکا پور اور لنگر حوض سے وابستہ پولیس اسٹیشنوں کے اہلکاروں کے متعلق اس بات کی مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں کہ وہ ٹولی چوکی‘ اور مہدی پٹنم کے علاقہ کو جو کہ مختلف پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں ہیں ان علاقوں کے تاجرین کو ہراساں کرتے ہوئے وصولی کرنے لگے ہیں۔ تاجرین نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ سوپر مارکٹس ‘ منی سوپر مارکٹس کے علاوہ کرانہ کی دکانات کو پولیس اہلکار معمول دینے کی صورت میں اشیائے خورد و نوش کی دکانات کے زمرہ میں شامل کر رہے ہیں لیکن جو لوگ نہیں دے رہے ہیں انہیں 11 بجے ہی بند کروایا جانے لگا ہے اور کھلا رکھنے پر مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔3