سیاسی باز آبادکاری سے کوئی فائدہ نہیں ، فورم فار گڈگورننس کا چیف سکریٹری کو سفارشات
حیدرآباد۔4۔جنوری(سیاست نیوز) ریاستی حکومت نئے کارپوریشن کے قیام کو منظوری نہ دے اور موجودہ کارپوریشنس میں نئے صدورنشین کی نامزدگی پر روک لگائی جائے۔ فورم فار گڈ گورننس نے چیف سیکریٹری تلنگانہ کوروانہ کرتے سفارشات میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے سیاسی بازآبادکاری کے لئے نئے کارپوریشن کے قیام اور موجودہ کارپوریشن کے صدورنشین کی نامزدگی عمل میں لائی جا رہی ہے جو کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کی جانے والی سیاسی بازآبادکاری سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ فورم کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت ایک کارپوریشن کے صدرنشین پر سالانہ 2کروڑ روپئے خرچ کر رہی ہے جو کہ ریاست کے عوام کی جانب سے ادا کئے جانے والے ٹیکس سے دیئے جا رہے ہیں۔ فورم کے ذمہ داروں کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات ریاست کے خزانہ کو نقصان پہونچانے کے مترادف ہیں کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے محکمہ جات کے تحت کارپوریشن کے قیام کے ذریعہ عوامی دولت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہاہے جو کہ افسوسناک ہے۔ مسٹر پدنبھا ریڈی نے چیف سیکریٹری کو روانہ کردہ تجاویزو سفارشات میں واضح طور پر کہا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے انتخابات کے سال کے پیش نظر ریاست میں نئے کارپوریشن کے قیام اور موجودہ کارپوریشن پر نئے صدورنشین کے تقررات کے سلسلہ میں اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے لیکن انہیں روکنا چاہئے کیونکہ حکومت کے اس اقدام سے عوامی دولت ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے قائم کئے جانے والے کارپوریشن پر جن لوگوں کو صدرنشین کی حیثیت سے نامزد کیا جاتا ہے ان میں بیشتر سیاسی پس منظر کے حامل افراد ہوتے ہیں اور ان کی بازآبادکاری کے لئے ہی ان کے تقررات عمل میں لائے جاتے ہیں۔ فورم فار گڈ گورننس کے ذمہ داروں کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے نامزد کئے جانے والے صدورنشین پر سالانہ 2کروڑ روپئے کا خرچ عائد ہوتا ہے اورتلنگانہ میں 70 کارپوریشن ایسے ہیں جن کے صدورنشین اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ فورم فار گڈ گورننس نے ریاستی حکومت کے مختلف محکمہ جات کے تحت چلائے جانے والے کارپوریشن کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان محکمہ جات کے تحت کارپوریشن کے قیام کے بعد محکمہ جاتی عہدیداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہونے لگی ہے اور ان کارپوریشن کی جانب سے بھی کوئی ٹھوس خدمات انجام نہیں دی جا رہی ہیں۔ فورم نے محکمہ افزائش مویشیاں کے تحت موجود کارپوریشن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس محکمہ کے تحت ڈیری ڈیولپمنٹ کارپوریشن‘ فشریز ڈیولپمنٹ کارپوریشن ‘ شیپ اینڈ گوٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے علاوہ لائیو اسٹاک ڈیولپمنٹ کارپوریشن چلائے جاتے ہیں جبکہ محکمہ بی سی ویلفیر کے تحت 5 کارپوریشن موجود ہیں جن میں تلنگانہ بی سی کوآپریٹیو فینانس کارپوریشن ‘وشوا برہمن کو آپریٹیو کارپوریشن‘ تاڈی ٹاپرس کو آپریٹیو فینانس کارپوریشن‘ مدیرا کو آپریٹیو فینانس کارپوریشن کے علاوہ موسٹ بیاک ورڈ فینانس کارپوریشن شامل ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ان کارپوریشن کے صدورنشین کے عہدوں کو سیاسی بازآبادکاری کے مقصد کے تحت استعمال کیا جانے لگا ہے۔م