نارائن گوڑہ نئی مچھلی مارکٹ کی منظوری، 19 کروڑ کے خرچ کا تخمینہ

   

پرانے شہر میں بھی مچھلی مارکٹ کی شدید ضرورت
حیدرآباد۔21نومبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں مچھلی مارکٹس کو فروغ دینے اور عصری مچھلی مارکٹس کے قیام کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور جلد ہی نارائن گوڑہ کے علاقہ میں نئی مچھلی مارکٹ کے قیام کو منظوری دیئے جانے کا امکان ہے اور کہا جارہا ہے کہ نارائن گوڑہ کی اس مارکٹ کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے 19 کروڑ سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ جی ایچ ایم سی حدود میں موجود مچھلی مارکٹس میں رام نگر‘ مشیرآباد مچھلی مارکٹ ‘ بیگم بازار مچھلی مارکٹ کے علاوہ ناچارم ‘ کوکٹ پلی اور ملا پورمچھلی مارکٹ موجود ہیں جنہیں عصری اور سرکردہ مارکٹ میں تبدیل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیںلیکن پرانے شہر میں مچھلی مارکٹ موجود نہیں ہے اور نہ ہی مچھلی مارکٹ کے قیام کے سلسلہ میں اب تک کوئی منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے تیار کئے جانے والے عصری مارکٹس کے طور پر اگر پرانے شہر میں بھی مچھلی مارکٹ کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں پرانے شہر کے عوام کو کافی سہولت حاصل ہوگی ۔ مچھلی مارکٹس کے قیام کے معاملہ میں پرانے شہر کو نظر انداز کیا جا رہاہے جس کے سبب پرانے شہر کے کئی علاقو ںمیں مچھلی فروخت کرنے والے سڑک کے کنارے مچھلی فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ فلک نما رعیتو بازار‘ بارکس سے شاہین نگر جانے والی سڑک‘ بندلہ گوڑہ ‘کے علاوہ پرانے شہر کے بعض دیگر علاقو ںمیں سڑک کے کنارے مچھلی فروخت کی جاتی ہے لیکن ان مقامات پر مختلف اقسام کی مچھلی فروخت نہیں ہوتی کیونکہ سڑک کے کنارے ہونے کے سبب وہ مختلف اقسام کی مچھلی فروخت کرنے کے موقف میں نہیں ہوتے اوراسی لئے خواہش مندو ں کو ان سڑک کے کنارے مچھلی فروخت کرنے والوں کے بجائے بیگم بازار یا رام نگر مشیر آباد پہنچنا پڑتا ہے۔ م