ناروے : ناروے نے کل جمعرات کو اوسلو میں روسی سفارت خانے کے 15 ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا ہے جسے وہ مبینہ طورپر ’’انٹیلی جنس ایجنٹس‘‘ سمجھتا ہے، جب کہ روسی مشن نے اس فیصلے کو “انتہائی غیر دوستانہ” قرار دیتے ہوئے “جواب دینے” کی دھمکی دی ہے۔ناروے کے وزیر خارجہ انکین ہوٹولٹ نے ایک بیان میں کہا کہ “ان 15 انٹیلی جنس ایجنٹوں کو ان کی سفارتی حیثیت سے متصادم سرگرمیوں کیلئے پرسنل نان گراٹا قرار دیا گیا ہے۔”خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ “ناروے میں روسی جاسوسی کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے حجم کو کم کرنے کیلئے یہ ایک اہم اقدام ہے”۔ناروے کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پندرہ روسی جو سفارتی احاطہ میں ملک میں ہیں انہیں جلد ہی ناروے کی سرزمین سے نکل جانا چاہیے۔ہوٹ ویلٹ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ان کی سرگرمیوں کو “تھوڑی دیر کیلئے” ٹریک کیا گیا تھا۔ تاہم ان پر عاید جاسوسی سرگرمیوں کی وضاحت نہیں کی گئی۔دوسری جانب روسی سفارت خانے کے ترجمان تیمور چیکانوف نے ایک ای میل میں کہا کہ ’’ہمارا ردعمل بہت منفی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ایک نیا، انتہائی غیر دوستانہ فیصلہ ہے جس کے بعد جواب دیا جائے گا‘‘۔