ناگپور فسادات: ملزم حامد انجینئر کی ضمانت منظور

   

ممبئی : ایک جوڈیشل مجسٹریٹ آف فرسٹ کلاس (جے ایم ایف سی) کی عدالت نے مہاراشٹرا کے ناگپور میں 17 مارچ کو ہوئے تشدد کے معاملے میں گرفتار شدہ عمر رسیدہ شخص حامد انجینئر کی درخواست منظور کر لی ہے ۔ عدالت نے انھیں پچاس ہزار کے ذاتی مچلکے پر رہا کئے جانے کا حکم جاری کیا اور ثبوت کے خلاف چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی تاکید کی ہے ۔ اپنی درخواست ضمانت میں ملزم نے دلیل دی کہ اسے جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا گیا ہے اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں نیز چونکہ انہوں نے وشوہندو پریشد کے 17 رضاکاروں کے خلاف شکایت کی تھی جنہوں نے اورنگ زیب کے مقبرے کے تعلق سے اشتعال انگیز نعرئے لگائے تھے ، لہذا بطور انتقام ان پر جھوٹا مقدمہ تیار کیا گیا ہے ۔مہاراشٹرا کی پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ(پی ڈبلیو ڈی) کے ایک سابق ملازم حامد مائنارئٹی ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی اور ورکنگ صدر ہیں ۔ ناگپور پولیس کے سائبر سیل نے دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے مغل بادشاہ اورنگ زیب کے مقبرے کو ہٹانے کے مطالبے کے بعد شہر میں ہونے والے تشدد کے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس کی جانب سے عائد الزامات مطابق حامد نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کی تھی اور فسادات کے ماسٹر مائنڈ فہیم خان کی رہنمائی کی تھی اور اسے بغاوت اور فسادات کے لئے اکسایا تھا۔