چینائی : تجربہ کار کلدیپ یادو پر بائیں ہاتھ کے اسپنر شہباز ندیم کو چینائی ٹسٹ میں کھلائے جانے پر بحث کا آغاز ہوا ہے۔ چینائی ٹسٹ میں ہندوستانی ٹیم کو 227 رنز کی شکست برداشت کرنی پڑی لیکن مقابلہ کے بعد اظہارخیال کرتے ہوئے ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی نے ندیم کی شمولیت پر افسوس نہ ہونے کا خیال ظاہر کیا ہے۔ کوہلی نے شکست کے بعد اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹسٹ مقابلہ اسی وقت انگلش ٹیم کے حق میں ہوچکا تھا جب ہم پہلی اننگز میں مایوس کن مظاہرہ کیا جہاں ہم بہتر بیٹنگ کرسکتے تھے۔ کوہلی نے مزید کہا کہ پہلی اننگز کے علاوہ دوسری اننگز میں بھی اگر کوئی سنچری اسکور کرتا تو شاید صورتحال مختلف ہوتی لیکن پہلی ہی اننگز میں ہماری بیٹنگ مایوس کن رہی۔ چینائی ٹسٹ میں کلدیپ یادو کی عدم شمولیت پہلے دن سے ہی موضوع بحث ہے لیکن کوہلی نے ندیم کی شمولیت کے فیصلے کا دفاع کیا۔ کوہلی نے کہا کہ جب آپ ایک ہی طرح کے دو آف اسپنر کو ٹیم میں شامل کرتے ہیں جیسا کہ کلدیپ سیدھے ہاتھ کے بیٹسمینوں کیلئے آف اسپنر ہی ہوں گے۔ لہٰذا ہم نے بولنگ میں مختلف متبادل کے طور پر ندیم کو کھلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ کوہلی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ انگلینڈ جس نے سری لنکا میں سیریز اپنے نام کی ہے اس سے قبل اس نے 2019ء میں بھی بنگلہ دیش میں کامیابی حاصل کی تھی جس سے اس کی تیاری زیادہ بہتر رہی، اس پر ہندوستانی کپتان نے کہا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انگلش ٹیم نے بہتر تیاری کی ہے حالانکہ گھریلو وکٹوں پر کرکٹ کھیلنے سے میزبان ٹیم کو فائدہ ہوتا ہے۔ کوہلی نے مزید کہا کہ 2017ء سیریز میں بھی آسٹریلیا نے پونے میں ٹسٹ مقابلہ اپنے نام کیا تھا جس کے بعد میزبان ٹیم نے واپسی کی تھی۔ لہٰذا پہلے ٹسٹ کی شکست کے بعد فوری طور پر اختتامی خیالات کا اظہار بہتر نہیں۔