مستقبل میں بی جے پی کو فائدہ پر آنے والا وقت بتائے گا ، وزیراعظم کے خطاب کے بعد چہ میگوئیاں
حیدرآباد۔10۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں مذہبی منافرت ‘ گجرات میں ذات پات سے نفرت ‘ اترپردیش میں شمشان اور قبرستان اور گجرات میں وندے بھارت اور شمسی توانائی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں ایک جلسہ سے خطاب کے دوران گجرات کے تجارتی طبقہ اور اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ چھوٹی ذات والوں کو اپنا گرویدہ بناے کے جملے کہے لیکن اس کا انہیں یا ان کی پارٹی کو کس حد تک فائدہ ہوگا یہ تو انتخابات کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن نریندر مودی نے گجرات کے ضلع مہسانے میں گذشتہ یوم منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران کہا کہ ’’میری ذات دیکھے بغیر گجرات کے عوام نے مجھے کامیاب کیا ہے‘‘ نریندر مودی کے اس جملہ کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے اور کہاجار ہاہے وہ گجرات میں ذات پات سے عاری سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی لئے انہو ںنے اپنی تقریر کے دوران یہ بات کہی۔ انہو ںنے بتایا کہ گجرات کے عوام نے انہیں دو دہائیوں تک ان کی ذات پات یا ان کی سیاسی پشت پناہی یا سرپرستی کو دیکھ کر ووٹ نہیں دیا بلکہ وہ ترقی اور گجرات کے گورو کے لئے انہیں اقتدار دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی 2014 میں وزیر اعظم بننے سے قبل 2001 سے چیف منسٹر گجرات کے عہدہ پر فائز رہے ہیں۔ انہوں نے مہسانہ کے موڈیرا موضع کو ملک کے پہلے 24X7 شمسی توانائی پر چلنے والا گاؤں قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گجرات کے لئے فخر کی بات ہے کہ ملک میں شمسی توانائی پر چلنے پہلا موضع ہے جہاں مکمل طور پر شمسی توانائی کا استعمال ہوگا۔ نریندر مودی نے مہسانہ میں ذات پات پربحث چھیڑتے ہوئے گجرات کے انتخابات کو ذات پات کی بنیاد سے دور کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ گذشتہ انتخابات سے قبل گجرات میں ہاردک پٹیل نے پاٹیدار تحریک کے دوران گجرات میں ہونے والی نا انصافیوں کی بنیاد پر تحریک میں شدت پیدا کی تھی اور کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اب وہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں اور اب پاٹیدار تحریک کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے اور اس ماحول میں وزیر اعظم کی جانب سے اپنی ذات کا تذکرہ کیا جانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ گجرات میں وہ تمام طبقات بالخصوص تجارتی برادری اور دلتوں کو اپنی طاقت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔م