نظام آباد :گاندھی جی کے مجسمہ کو کالک پوت دی گئی

   

اشتعال انگیز مواد لٹکادیاگیا‘پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
حیدرآباد ۔ 26 اگسٹ ۔ ( سیاست نیوز) ضلع نظام آباد کے گنڈا رام گاؤں میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کو کالک پوتنے اور اشتعال انگیز مواد مجسمہ کے گلے پر لٹکانے کے واقعہ نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے ۔ پولیس اپنی ساکھ بچانے کیلئے ایک مخصوص تنظیم کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کررہی ہے ۔ دو دن قبل پیش آئے اس واقعہ کے پولیس نے تفصیلی تحقیقات کے بجائے ایک تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے کارکنوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ چند دن قبل نظام آباد پولیس نے اس تنظیم سے وابستہ بعض کارکنوں کو پولیس سے بدسلوکی اور قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس تنظیم کے مزید ارکان کو پھانسنے کے لئے پولیس نے یہ حربہ اختیار کیا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مہاتما گاندھی کے مجسمہ کو کالک پوتنے کے علاوہ مجسمہ کے گلے میں ایسے اشتعال انگیز نعرے درج کئے گئے ہیں جسے دیکھ کر عام آدمی بھی اس واقعہ کے پس پردہ ایک گہری سازش ہونے کا بہ آسانی پتہ لگارہا ہے ۔ حالانکہ نظام آباد پولیس نے اس واقعہ کا پس پردہ کسی تنظیم کے خلاف راست طورپر الزام عائد کرنے کے بجائے بعض ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ قابل اعتراض تصاویر گشت کروارہی ہے تاکہ ایک مخصوص تنظیم اور اُس کے ارکان کے خلاف مخالف ماحول پیدا کرتے ہوئے اُنھیں گرفتار کیا جاسکے ۔ مجسمہ پر لٹکے ہوئے اشتعال انگیز نعروں کو دیکھ کر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کسی مسلم شخص نے نہیں بلکہ کسی دوسرے فرقہ کے افراد نے کی ہے ۔ ضلع نظام آباد جو فرقہ پرستوں کا گڑھ میں تبدیل ہورہا ہے اور ایسے حالات میں مہاتماگاندھی کے مجسمہ کے واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طبقہ کو نشانہ بنانے کیلئے پولیس فرقہ پرستوں کی آلہٰ کار بن چکی ہے ۔