نظام حیدرآباد کی تعریف لیکن عثمانیہ یونیورسٹی لوگو سے اردو اور عربی غائب

   


متعصب حکومتوں کی کارروائی، کے سی آر حکومت
قدیم لوگو کی بحالی کے اقدامات کرے

حیدرآباد 5ڈسمبر (سیاست نیوز) آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کے فلاحی اقدامات کی تعریف میں بہت کچھ کہا اور لکھا جاتا ہے لیکن اردو ذریعہ تعلیم کی پہلی یونیورسٹی عثمانیہ یونیورسٹی کے لوگو سے اردو اور عربی کو منصوبہ بند سازش کے تحت ہٹادیا گیا لیکن نظام دکن کی تعریف کرنے والے قائدین خاموش ہیں۔ مختلف شعبہ جات میں اردو ذریعہ تعلیم کے مقصد سے قائم کردہ عثمانیہ یونیورسٹی میں اردو کی زبوں حالی پر حکومت کی توجہ نہیں ہے۔ نواب میر عثمان علی خاں نے نہ صرف جامعہ عثمانیہ قائم کی تھی بلکہ ملک کی کئی یونیورسٹیز کیلئے بھاری ڈونیشن دیا تھا۔ کئی یونیورسٹیز کو ماہانہ امداد مقرر کی گئی تھی۔ ملک کی آزادی کے ساتھ ہی متعصب حکومتوں نے جامعہ عثمانیہ کی شناخت کو مٹانے کا کام شروع کردیا۔ سب سے پہلے یونیورسٹی کا ذریعہ تعلیم اردو سے انگریزی میں تبدیل کردیا گیا ۔ 1951 سے ذریعہ تعلیم میں تبدیلی کے ساتھ لوگو میں شامل عربی اور اردو کو بتدریج نکال کر تلگو اور ہندی کو شامل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 1956 ء میں حیدرآباد اسٹیٹ کے آندھراپردیش میں انضمام کے بعد اردو تحریر جامع عثمانیہ کو تلگو سے تبدیل کردیا گیا ۔ لوگو کی تبدیلی میں متحدہ آندھراپردیش کی حکومتوں کا اہم رول رہا لیکن علحدہ تلنگانہ میں یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب منائی گئیں جس میں یونیورسٹی کا لوگو بطور خاص جاری کیا گیا ۔ لوگو کی اجرائی کے بعد نہ صرف اردو داں طبقہ بلکہ سیکولر غیر مسلم افراد نے بھی ناراضگی جتائی اور کے سی آر حکومت سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے قدیم لوگو کو بحال کیا جائے۔ تلنگانہ تحریک میںکے سی آر ہر سال نظام حیدرآباد کی مزار پر حاضری دیا کرتے تھے۔ انہوں نے اسمبلی میں بھی نظام کی تعریف کی اور انہیں اپنا بادشاہ قرار دیا تھا ۔ تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ہے لیکن حکومت نے یونیورسٹی کے لوگو میں اردو کی شمولیت پر کوئی توجہ نہیں کی ۔ یونیورسٹی کے حقیقی لوگو میں آصف سابع کا تاج شامل تھا جس کے اطراف قرآنی آیت ’نور علیٰ نور‘ درج تھا ۔ تاج کے نیچے حدیث مبارکہ’انا مدینۃ علم وعلی بابھا‘ کو شامل کیا گیا تھا۔ لوگو کے درمیان عثمانیہ کا ع شامل تھا جبکہ اطراف میں انگریزی میں عثمانیہ یونیورسٹی لکھا گیا تھا۔ لوگو کے آخری حصہ میں اردو میں جامعہ عثمانیہ تحریر تھا لیکن متعصب عہدیدار اور حکومتوں کو یہ بردداشت نہیں ہوا اور وقفہ وقفہ سے لوگو میں تبدیلی کی گئیں ۔ یہ تبدیلیاں انتہائی رازداری سے کی گئیں اور عوام کو بے خبر رکھا گیا۔ یونیورسٹی صد سالہ تقاریب میں لوگوکی اجرائی کے بعد عوام کو پتہ چلا کہ اردو ذریعہ تعلیم کی پہلی یونیورسٹی تعصب کا شکار ہوچکی ہے۔ نئے لوگو میں سوائے ع کے اردو کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ لوگو کی بحالی یا کم از کم اردو کی شمولیت کیلئے سابق طلبہ نے باقاعدہ مہم چلائی گئی لیکن حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔ نظام حیدرآباد کے کارناموں کی تعریف کرنا ہر کسی کیلئے آسان ہے لیکن اردو زبان سے محبت کا ثبوت دینا ہو تو حکومت کو چاہئے کہ لوگو میں اردو کو بحال کرکے نیا لوگو تیارکرے۔ جون 2021 ء میں آن لائین مہم چلائی گئی جس میں تقریباً 10,000 سے زائد افراد نے قدیم لوگوکی بحالی کا مطالبہ کیا جس میں عربی و اردو شامل تھی ۔ حکومت کے ذمہ دار یہ کہہ کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ لوگو کی تبدیلی متحدہ آندھرا پردیش کی حکومتوں نے کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متحدہ آندھراپردیش کی حکومتوں کے کئی فیصلوں کو تبدیل کردیا گیا لیکن اردو اور عربی تحریر کی بحالی کے معاملہ میں فیصلہ سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ جس طرح تلنگانہ میں اردو دوسری سرکاری زبان صرف کاغذ پر موجود ہے، اسی طرح عثمانیہ یونیورسٹی کے لوگو میں صرف حرف ع کو باقی رکھا گیا ۔ وہ دن دور نہیں جب مخالف نظام طاقتیں یونیورسٹی کے نام کی تبدیلی کی مہم چلائیں گی۔ جس طرح تلنگانہ کی ریاستی یونیورسٹیز کے نام اہم شخصیتوں سے موسوم کیئے گئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کو کسی شخصیت سے موسوم کردیا جائے ۔ چیف منسٹر کے سی آر اور ٹی آر ایس کے کئی قائدین نظام حیدرآبادکی تعریف کرتے نہیں دھکتے لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد کے سی آر نے نظام کی مزار پر حاضری بند کردی۔ نظام سے عقیدت اور اردو سے محبت ثابت کرنے کے سی آر کو یونیورسٹی کا قدیم لوگو بحال کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائے جو موجودہ لوگو میں تبدیلیوں کی سفارش کرے۔ ر