نظام حیدرآباد کی جائیدادوں کے معاملات میں بے قاعدگیوں پر چیف جسٹس کی برہمی

   

سی بی آئی یا انفورسمنٹ سے تحقیقات کی دھمکی، سنگل جج کے مشتبہ احکامات کی تحقیقات کا حکم
حیدرآباد۔10۔ فروری (سیاست نیوز) چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس اجل بھویاں کی زیر قیادت ڈیویژن بنچ نے نظام حیدرآباد کی جائیدادوں سے متعلق تنازعات کی سی بی آئی یا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ تحقیقات کی دھمکی دی ہے۔ اراضی تنازعہ سے متعلق ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران جسٹس اجل بھویاں نے کہا کہ نظام حیدرآباد کی سینکڑوں کروڑ مالیاتی جائیدادوں کے کئی سیول تنازعات میں دھوکہ دہی اور بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں، لہذا وہ تمام غیر قانونی اور مشتبہ معاملات کی سی بی آئی یا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سے تحقیقات کا حکم دے سکتے ہیں۔ گزشتہ دو ماہ سے چیف جسٹس کی زیر قیادت بنچ نظام کی جائیدادوں کے معاملات پر روزانہ سماعت کر رہا ہے ۔ جسٹ اجل بھویاں اور جسٹس این تکارام جی کے اجلاس پر حیات نگر منڈل ضلع رنگا ریڈی کی 93 ایکر اراضی کا مسئلہ پیش ہوا۔ نظام کی اس اراضی کو بعض افراد نے سنگل جج کے احکامات کی آڑ میں فروخت کردیا ۔ سنگل جج کے احکامات عوام کیلئے دستیاب نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے ہائی کورٹ کی ویب سائیٹ سے معلومات کی تو پتہ چلا کہ رجسٹریشن کی اجازت سے متعلق سنگل جج کے احکامات کو اپ لوڈ نہیں کیا گیا ہے ۔ اس معاملہ میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے سنگل جج کے احکامات پر حکم التواء جاری کردیا اور سب رجسٹرار کو ہدایت دی کہ آئندہ احکامات تک کوئی رجسٹریشن نہ کریں۔ چیف جسٹس نے رجسٹرار ہائیکورٹ کو اس معاملہ کی جانچ کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ حیات نگر کی اراضی کے معاملہ میں مالکین نے وارثوں میں اراضی کی تقسیم کی درخواست داخل کی۔ سنگل جج نے جون 2021 ء میں حیات نگر کے سب رجسٹرار کو رجسٹریشن نہ کرنے کی ہدایت دی ۔ احکامات پر حکم التواء حاصل کرنے کی بعض وارثوں کی اپیل کو عدالت نے مسترد کردیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسرے سنگل جج کے مشتبہ احکامات کو پیش کرتے ہوئے اراضیات کا رجسٹریشن کیا جارہا تھا۔ چیف جسٹس نے سارے معاملہ کی جانچ کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 2 مارچ کو مقرر کی ہے۔ر