نظم و نسق میں اردو کے استعمال میں معاون اردو آفیسرس حکام کی ناانصافی کا شکار

   

ڈائرکٹر اقلیتی بہبود سے زیادہ سپرنٹنڈنٹ بااختیار، چار سال بعد بھی سرویس رولس تیار نہیں، راست تقررات سے روایتی عہدیداروں کی ناراضگی

حیدرآباد۔/7ڈسمبر، ( سیاست نیوز) نظم و نسق میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر عمل کرنے کے مقصد سے حکومت نے66 اردو آفیسرس کے تقررات عمل میں لائے جن میں سے گریڈ I اردو آفیسرس کی 6 جائیدادوں کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے۔ حکومت نے گریڈ II اردو آفیسرس کے تقررات عمل میں لاتے ہوئے انہیں چیف منسٹر، وزراء، ضلع کلکٹرس اور اہم محکمہ جات میں فائز کیا تاکہ اردو درخواستوں کی یکسوئی ہو۔ نظم و نسق میں پہلے ہی اقلیتی اور خاص طور پر اردو زبان کے نام پر تقرر کئے گئے عہدیداروں کی کمی ہے لیکن بعض تعصب پسند عہدیداروں کو اردو آفیسرس کھٹکنے لگے ہیں۔ 2017 میں باقاعدہ تحریری امتحانات کے ذریعہ شفافیت کے ساتھ 60 گریڈ II آفیسرس کا تقرر کیا گیا جنہیں سرکاری سطح پر سپرنٹنڈنٹ کا رینک دیا گیا۔ ان عہدیداروں کو ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے تحت مامور کیا گیا لیکن ڈائرکٹوریٹ کے بعض عہدیدار غیر ضروری طور پر انہیں ہراساں کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم کو کئی اضافی ذمہ داریوں کے سبب وقت نہیں مل پاتا کہ وہ اردو آفیسرس کے مسائل کی سماعت کریں۔ ایسے میں ڈائرکٹوریٹ کے ایک سپرنٹنڈنٹ اور دیگر عہدیداروں نے اردو آفیسرس کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے اور ان کی رسائی ڈائرکٹر تک ممکن نہیں ہے۔ محکمہ پنچایت راج سے ڈیپوٹیشن پر اقلیتی بہبود میں آنے کے بعد ڈائرکٹوریٹ میں خدمات کو مستقل کرنے والے سپرنٹنڈنٹ کا معاملہ کچھ ایسا ہے کہ وہ بسااوقات ڈائرکٹر سے زیادہ بااختیار خود کو ظاہر کرتے ہیں۔ ڈائرکٹر کی عدیم الفرصتی کے نتیجہ میں سپرنٹنڈنٹ ماورائے دستور اتھاریٹی کی طرح ڈائرکٹر سے بڑھ کر بااختیار ظاہر کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈائرکٹوریٹ کے بعض عہدیداروں نے خود کو اس قدر خود مختار بنالیا ہے کہ عوام کی ڈائرکٹر تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ زائد ذمہ داریوں کے نتیجہ میں ڈائرکٹر نے بعض اُمور اپنے ماتحت عہدیداروں کو تفویض کئے ہیں جس کا غلط فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ مسائل کے حل کیلئے ڈائرکٹوریٹ سے رجوع ہونے والے افراد نے شکایت کی ہے کہ مسائل کو ڈائرکٹر تک پہنچانے کے بجائے باہر سے ہی مایوس لوٹا دیا جاتا ہے۔ر

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راست طور پر تقررات کے ذریعہ آنے والے اردو آفیسرس اس لئے بھی برداشت نہیں کہ اگر ان کے سرویس رولس بنادیئے جائیں تو وہ مزید ترقی حاصل کرلیں گے۔ اردو آفیسر جو عرف عام میں اردو مترجمین کہے جارہے ہیں انہوں نے حالیہ عرصہ میں غیر معمولی کام کیا ہے۔ دھرانی پورٹل پر ریوینیو سے متعلق زیادہ تر اصطلاحات اردو زبان کی ہیں جس کے نتیجہ میں کلکٹرس اور ریوینیو عہدیداروں کو دشواری ہورہی تھی۔ اردو آفیسرس نے اردو اور فارسی کی اصطلاحات کا نہ صرف انگریزی اور تلگو میں ترجمہ کیا بلکہ قدیم زمانہ کے دستاویزات، بیع نامے اور باونڈ پیپرس کا انگریزی اور تلگو میں ترجمہ کرتے ہوئے کلکٹرس کے کام میں مدد کی۔ گروپ I اور دیگر امتحانات کیلئے جب اردو میں میٹریل کی تیاری کا مرحلہ آیا تو اردو آفیسرس کی خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے تلگو اور انگریزی کے میٹریل کو اردو میں منتقل کیا۔ چیف منسٹر کے دفتر کے علاوہ چیف سکریٹری، ڈائرکٹر جنرل پولیس، اسمبلی، کونسل اور ضلع کلکٹریٹس میں اردو آفیسرس کی موجودگی سے حکام کو کافی سہولت ہے۔ ریاست میں مزید اردو آفیسرس کی ضرورت ہے ایسے میں ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ حکومت سے سفارش کی جاسکتی ہے بجائے اس کے کہ مزید اردو آفیسرس کے تقررات کو یقینی بنایا جائے ڈائرکٹوریٹ کے عہدیدار موجودہ اردو آفیسرس کی حوصلہ شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ 2017 میں اردو آفیسرس کے تقرر کے مرحلہ پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تیقن دیا تھا کہ تجرباتی طور پر 66 اردو آفیسرس کے تقررات کے بعد پولیس اسٹیشنوں اور تحصیلدار دفاتر میں اردو درخواستوں کی یکسوئی کیلئے آفیسرس کا تقرر کیا جائے گا۔ اگر موجودہ عہدیداروں کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کی جائے تو پھر حکومت بھی مزید تقررات کیلئے ہرگز آمادہ نہیں ہوگی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو اردو آفیسرس کے مسائل پر فوری توجہ دینی چاہیئے اور عوامی مسائل کے حل کیلئے ماتحت عہدیداروں پر انحصار کا رویہ ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ر