نفرت انگیز میڈیا کے خلاف جمعیۃ علماء کی درخواست سپریم کورٹ میں قبول

   

20 جون کو علحدہ سماعت سے سہ رکنی بنچ کا اتفاق ، دیگر درخواستوں کے بارے میں سالیسٹر جنرل پر اظہار ناراضگی
حیدرآباد۔19۔ مئی (سیاست نیوز) ملک کے متاثر میڈیا کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی درخواست پر سپریم کورٹ 20 جون کو سماعت کرے گا۔ جمعیۃ علماء کے پریس نوٹ کے مطابق جھوٹ اور نفرت انگیزی کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور دونوں مذاہب کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چیانلوں اور پرنٹ میڈیا کے خلاف صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر 6 اپریل کو درخواست داخل کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ میں آج درخواست پر 11 ویں سماعت ہوئی۔ عدالت نے سالیسٹر جنرل آف انڈیا پر ناراضگی کا اظہار کیا جنہوں نے نفرت انگیز تقاریر ، نفرت انگیز جرائم اور ٹیلی ویژن قوانین کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی فہرست داخل نہیں کی۔ جسٹس اے ایم کھانولکر نے سالیسٹر جنرل سے کہا کہ گزشتہ سماعت کے موقع پر فہرست مرتب کرنے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن رجسٹری میں کوئی فہرست داخل نہیں ہوئی ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج ہی فہرست تیار کر کے داخل کریں گے ۔ اسی دوران جانبدارانہ میڈیا کے خلاف کارروائی کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی درخواست پر سپریم کورٹ نے 20 جون کو علحدہ سماعت سے اتفاق کیا ہے ۔ دیگر درخواستوں کی سماعت کیلئے علحدہ تاریخیں طئے کی جائیں گی ۔ جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڈے اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول پیش ہوئے اور کہا کہ اس معاملہ میں سب سے پہلے جمعیت نے درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کی۔ اس درمیان دیگر فریق بھی عدالت سے رجوع ہوئے ۔ وکلاء نے عدالت سے گزارش کی کہ جمعیت علماء ہند کی درخواست جس میں انفارمیشن ٹکنالوجی قانون کو چیلنج کیا گیا ہے ، اس پر علحدہ سماعت کی جائے۔ سپریم کورٹ نے علحدہ سماعت سے اتفاق کرلیا۔ سہ رکنی بنچ جسٹس کھانولکر ، جسٹس ابھئے اوکا اور جسٹس جے بی پاردی والا نے درخواستوں کو ان کی نوعیت کے حساب سے علحدہ کرنے کی ہدایت دی۔گرمیوں کی تعطیلات کے بعد سماعت کی جائے گی ۔ اسی دوران دھرم سنسد پر پابندی عائد کرنے کیلئے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل عدالت سے رجوع ہوئے۔ عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست کو مسترد کردیا کہ مستقبل میں کیا ہوگا ، ابھی اس کے خلاف پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ عدالت نے کہا کہ اگر کوئی درخواست پیش ہوتی ہے تو گرمائی تعطیلات کے بعد سماعت کی جائے گی۔ ر