نئی دہلی، 14 اپریل (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے نوئیڈا میں مزدوروں کی جانب سے اجرت میں اضافے کیلئے کی جانے والی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسمان چھوتی مہنگائی کے دور میں مزدوری بڑھانے کا مطالبہ بالکل جائز ہے اور ان کے اس مطالبے پر حساسیت کے ساتھ توجہ دی جانی چاہیے ۔راہول گاندھی نے منگل کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر نوئیڈا کی کئی کمپنیوں میں مزدوروں کے احتجاج کی حمایت کی اور کہا کہ جس طرح مہنگائی بڑھ رہی ہے ، اس کے مطابق ان کی کم از کم اجرت میں بھی اضافہ ہونا چاہیے ۔ کانگریس لیڈر نے کہا، “کل نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری پکار تھی-جس کی ہر آواز کو ان سنا کیا گیا، جو مانگتے مانگتے تھک گیا۔ نوئیڈا میں کام کرنے والے ایک مزدور کی 12,000 روپے ماہانہ آمدنی میں سے 4,000 سے 7,000 روپے کرایے میں چلے جاتے ہیں۔ جب تک 300 روپے کا سالانہ اضافہ ملتا ہے ، مکان مالک 500 روپے سالانہ کرایہ بڑھا دیتا ہے ۔ آمدنی بڑھنے سے پہلے ہی یہ بے لگام مہنگائی زندگی کا گلا گھونٹ دیتی ہے اور قرض کی گہرائی میں ڈبو دیتی ہے ، یہی ہے ‘وکست بھارت’ کا سچ۔” انہوں نے مزید لکھا کہ ایک خاتون مزدور نے کہا ‘رسوئی گیس کے دام بڑھتے ہیں، پر ہماری آمدنی نہیں۔’ ان لوگوں نے شاید اس گیس بحران کے دوران اپنے گھر کا چولہا جلانے کیلئے 5,000 روپے تک کا گیس سلنڈر خریدا ہوگا۔ یہ صرف نوئیڈا کی بات نہیں ہے اور نہ ہی صرف ہندوستان کی۔ دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہوئی ہے ۔ مگر امریکہ کی ٹیرف وار، عالمی مہنگائی اور متاثرہ سپلائی چین کا بوجھ وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘دوست’ صنعت کاروں پر نہیں پڑا۔ اس کی سب سے بڑی مار اس مزدور پر پڑی ہے جو دیہاڑی کماتا ہے اور تبھی روز کھاتا ہے۔ وہ مزدور، جو کسی جنگ کا حصہ نہیں، جس نے کوئی پالیسی نہیں بنائی، جس نے بس کام کیا، خاموشی سے ، بغیر کسی شکایت کے ، اور اپنے حق کا مطالبہ کرنے پر اسے کیا ملتا ہے ؟ دباؤ اور ظلم۔