اسمبلی کی کارروائی مسلسل ہنگامے کی نذر۔ اسمبلی احاطہ میں وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس
لکھنؤ، 5 اگست (یو این آئی) اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی کا مانسون اجلاس وقت سے پہلے ملتوی ہونے کے بعد سماج وادی پارٹی (ایس پی) پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث نوجوانوں، کسانوں، خواتین اور غریبوں سے جڑے اہم موضوعات پر ایوان میں بحث نہ ہو سکی۔اسمبلی احاطے میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسمبلی سیشن کے دوران ایک بار پھر سماج وادی پارٹی کا اصلی چہرہ سامنے آ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کو مسلسل ہنگامے کی نذر کرنا ریاست کے نوجوانوں، کسانوں، خواتین اور غریبوں کے ساتھ ناانصافی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت 59 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا ضمنی بجٹ لے کر آئی تھی، جس کا مقصد مختلف طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے نئی اسکیمیں اور پروگرام شروع کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں متعدد مدات کیلئے رقم کا بندوبست کیا تھا نیز کئی اہم اعلا نات بھی کیے تھے ۔یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ حکومت آنگن واڑی ورکرز، باورچیوں، گرام چوکیداروں سمیت مختلف طبقات کے الاؤنس میں اضافے ، خواتین کی پنشن، معذور افراد کی پنشن اور اولڈ ایج پنشن جیسے اہم موضوعات پر بحث کر کے انہیں آگے بڑھانا چاہتی تھی، لیکن سماج وادی پارٹی کے منفی رویے کے باعث ان مسائل پر ایوان میں غور و خوض نہ ہو سکا۔انہوں نے الزام لگایا کہ سماج وادی پارٹی نے کسانوں، نوجوانوں، خواتین اور غریبوں سے متعلق موضوعات پر بحث نہیں ہونے دی۔ وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن کے اس رویے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسان، نوجوان، خاتون اور غریب مخالف ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان حالات کے باوجود اسمبلی نے ضمنی گرانٹس کی مانگوں کو منظور کر لیا ہے اور حکومت جلد ہی بجٹ میں اعلان کردہ شقوں کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں ضروری کارروائی کرے گی۔قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل اتر پردیش اسمبلی کی کارروائی چہارشنبہ کے روز اپوزیشن کے مسلسل ہنگامے کے درمیان مقررہ وقت سے پہلے غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی تھی۔دراصل ایوان کی کارروائی اصل میں 6 اگست تک تجویز شدہ تھی، لیکن مسلسل رکاوٹ کے باعث اسے وقت سے پہلے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایوان کی کارروائی کے دوران مختلف مسائل پر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ ہنگامے کی وجہ سے کارروائی معمول کے مطابق نہیں چل سکی۔ مسلسل تعطل کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اسمبلی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی مون سون سیشن کا اختتام ہو گیا۔