بھارت منڈپم میں 3000 سے زائد نوجوانوں سے مرکزی وزیر محنت اور کھیل منسکھ منڈاویہ کا خطاب
نئی دہلی : محنت اور روزگار اور نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کے مرکزی وزیر منسکھ منڈاویہ نے آج وکست بھارت یوتھ لیڈر ڈائیلاگ پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے نوجوانوں کو قیادت سونپنے کی ایک پہل ہے ۔ آج یہاں بھارت منڈپم میں مختلف ریاستوں کے تین ہزار سے زیادہ نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے منڈاویہ نے کہا کہ ملک میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا پروگرام ہے جس میں ملک کے نوجوانوں کو قیادت سونپنے کی پہل کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس طرح کا پہلا تاریخی واقعہ ہے جو ہمارے نوجوانوں کو ترقی یافتہ ہندوستان کے مشترکہ ویژن میں اپنا رول ادا کرنے کی طاقت دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو ملک بھر کے نوجوان ترقی یافتہ ہندوستان کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت کریں گے ۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ہم ہر سال 12 جنوری کو سوامی وویکانند کی یاد میں یوتھ فیسٹیول مناتے ہیں اور اس تہوار کے دن تمام نوجوان ملک اور اپنی ترقی کا عہد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی وویکانند کہتے تھے کہ جتنی بڑی جدوجہد ہوگی، جیت اتنی ہی بڑی ہوگی۔ جدوجہد ہمیں تحریک دیتی ہے ، جدوجہد ہمیں بڑی فتوحات کے لیے تیار کرتی ہے اور کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوامی وویکانند جی نے 100-125 سال پہلے جو کہا تھا وہ بھی ہمیں اس سے تحریک لے کر آگے بڑھنے کی سمت دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دیکشا لینے سے پہلے سوامی وویکانند کا نام نریندر دت تھا۔ جن سے نوجوان تحریک لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیں ترغیب دی کہ اس بار ہمیں یوتھ فیسٹیول کو مختلف انداز میں منانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ایک نریندر دت نے نوجوانوں کو راہ دکھائی تھی اسی طرح آج ہمارے نریندر مودی نوجوانوں کو راہ دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا ایک لاکھ نوجوانوں کو لیڈر بنانے کی طرف یہ پہلا قدم ہے ۔ اس پروگرام کے تمام انتظامات نوجوان رضاکاروں نے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں وزارت کے وزراء اور افسران متاثر کن رہنمائی کرتے رہے ہیں۔ اس پروگرام کے لیے ملک بھر سے 25 رضاکار نوجوانوں سے بات چیت کی گئی۔ ان نوجوانوں نے کوئز مقابلہ منعقد کرنے کا مشورہ دیا، جس پر عمل کیا گیا۔ اس مقابلے میں 30 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں نے حصہ لیا۔
اس میں سے میرٹ میں آنے والے دو لاکھ نوجوانوں کو مضمون لکھنے کو کہا گیا۔ ان میں سے 60 ہزار نوجوانوں نے مضامین لکھے ۔ ان میں سے نو ہزار نوجوانوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے منتخب کردہ موضوع پر پریزنٹیشن دیں۔ اس کے بعد مختلف ریاستوں سے تین ہزار نوجوانوں کو یوتھ ینگ لیڈر ڈائیلاگ کے لیے منتخب کیا گیا۔