نوح میں بلڈوزر کاروائی روکنے والی بنچ سے کیس ہٹادیا گیا

,

   

چیف جسٹس کے اجلاس پر 18اگست کو مقدمہ کی اگلی سماعت مقرر
نوح(ہریانہ ):پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ، جس نے پہلے ہریانہ کے نوح میں انہدام کی کاروائی کا ازخود نوٹس لیا تھا، 18 اگست کو اس مقدمے کی سماعت اگلی کرے گی۔ پچھلی سماعتوں کے دوران، ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی طرف سے کی گئی کاروائی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔ہریانہ کے نوح میں بلڈوزر کاروائی سے متعلق ایک کیس کی جمعہ کو ہونے والی سماعت سے عین قبل پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی اس بنچ سے اس کیس کو ہٹا دیا گیا جس نے بلڈوزر کاروائی پر روک لگادی تھی ۔جسٹس جی ایس سندھاوالیا اور ہرپریت کور جیون پر مشتمل بنچ نے گزشتہ ہفتے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور اسے ہائی کورٹ کی دو ججوں کی بنچ کے سامنے رکھا تھا۔سماعت کے دوران بنچ نے انہدام کے خلاف سخت مشاہدات کیے اورسوال کیا کہ کیا ریاستی حکومت کی جانب سے ’نسلی صفائی‘ کی جا رہی ہے۔جسٹس ارون پلی کے مطابق ہائی کورٹ کے قوانین میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ازخود نوٹس کو چیف جسٹس کے سامنے غور کیلئے رکھا جانا چاہیے۔ چونکہ چیف جسٹس جمعہ کو عدالت میں نہیں تھے، اس لیے یہ معاملہ ان کے سامنے 18 اگست کو غور کیلئے پیش کیا جائے گا۔