نوپور شرما معطل لیکن بنڈی سنجے کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ؟

   

بی جے پی قیادت سے کے ٹی آر کا سوال، مساجد اور اردو کے خلاف زہر افشانی پر کارروائی کا مطالبہ

حیدرآباد۔/5 جون، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے بی جے پی کی جانب سے پارٹی ترجمان نوپور شرما کو معطل کئے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کے مخصوص رویہ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی حقیقی معنوں میں تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے تو پھر بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے کو ابھی تک معطل کیوں نہیں کیا گیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی جے پی کے ریاستی صدر کو تمام مساجد کی کھدائی اور اردو زبان پر پابندی سے متعلق کھلے بیان پر کیوں معطل نہیں کیا گیا۔ کے ٹی آر نے ٹوئٹر پر بی جے پی کی جانب سے پارٹی ترجمان نوپور شرما کی معطلی سے متعلق ٹوئیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جوابی ٹوئیٹ کیا۔ انہوں نے کریم نگر میں ہندو ایکتا یاترا کے دوران بنڈی سنجے کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم مستقل طور پر اردو پر پابندی عائد کردیں گے۔ مدارس ملک میں بم دھماکوں کے مراکز ہیں جہاں دہشت گرد سرگرمیوں کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ بنڈی سنجے نے کہا کہ تمام مساجد کی کھدائی کی جائے گی اور ان کے نیچے شیولنگ ملے گا۔ ٹی آر ایس قائدین نے بنڈی سنجے کی تقریر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ بنڈی سنجے جو پارلیمنٹ کے رکن ہیں ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی اپیل کی گئی۔ واضح رہے کہ بی جے پی ترجمان نوپور شرما نے انگلش نیوز چینل ٹائمز ناو پر مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی۔ یکم جون کو بی جے پی کے ایک اور لیڈر نوین کمار جندال نے اپنے سرکاری ٹوئٹر صفحہ پر حضور اکرم ؐ کی شان میں گستاخی کی۔ بی جے پی نے ان دونوں کو پارٹی سے معطل کرتے ہوئے تمام مذاہب کے احترام کا دعویٰ کیا۔ کے ٹی آر نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ جے پی نڈا کو وضاحت کرنی چاہیئے کہ کارروائی کے معاملہ میں پارٹی کا مخصوص رویہ کیوں ہے۔ جب نوپور شرما اور جندال کے خلاف کارروائی کی گئی تو پھر بنڈی سنجے کے خلاف کیوں نہیں۔ر