’نویں اور دسویں جماعت میں تیسری زبان شامل نہ کی جائے‘

   

حکومت کا فیصلہ غیر منصوبہ بند اور من مانی، کانگریس رہنما ڈگ وجئے سنگھ کا وزیراعظم کو مکتوب

نئی دہلی، 07 جون (یواین آئی) تعلیم سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے نویں اور دسویں جماعت کے نصاب میں تیسری زبان شامل کرنے کے فیصلے پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے اس فیصلے کو “من مانی اور غیر منصوبہ بند” قرار دیا ہے ۔کانگریس کے میڈیا انچارج جے رام رمیش نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس کی اطلاع دی۔ ان کے مطابق دگ وجے سنگھ نے وزیرِ اعظم سے اس فیصلے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ فیصلہ تعلیمی منصوبہ بندی کے طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور سی بی ایس ای کی گورننگ باڈی کے پہلے سے موجود فیصلوں کے برعکس نافذ کیا گیا ہے ۔جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں کہاکہ تعلیم سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے وزیرِ اعظم کو خط لکھ کر سی بی ایس ای کے نویں اور دسویں جماعت کے نصاب میں تیسری زبان کو من مانے اور غیر منصوبہ بند انداز میں شامل کرنے کے فیصلے پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ یہ اقدام خود سی بی ایس ای کی گورننگ باڈی کے فیصلے اور تعلیمی منصوبہ بندی کے تمام اصولوں کے خلاف ہے ۔کانگریس کا مؤقف ہے کہ ملک بھر کے لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والی بڑی نصابی تبدیلیاں صرف طلبہ، والدین، اساتذہ، ریاستی حکومتوں اور تعلیمی ماہرین سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے مناسب مشاورت کے بعد ہی نافذ کی جانی چاہئیں۔پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امتحانی اور نصابی ڈھانچے میں اچانک تبدیلیاں طلبہ میں الجھن پیدا کر سکتی ہیں اور بورڈ امتحانات کی تیاری کرنے والے اسکولوں پر اضافی تعلیمی بوجھ ڈال سکتی ہیں۔یہ معاملہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 (این ای پی 2020) میں شامل لسانی دفعات کے نفاذ پر جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آیا ہے ۔ اگرچہ یہ پالیسی کثیر لسانی تعلیم کی حمایت کرتی ہے اور تین زبانوں کے مطالعے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ، تاہم کئی اپوزیشن جماعتوں اور ریاستی حکومتوں نے زبان کی پالیسیوں کے نفاذ کے طریقۂ کار پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، خاص طور پر جب وسیع مشاورت کے بغیر تبدیلیاں کی جا رہی ہوں۔سی بی ایس ای، جس سے ہندوستان اور بیرونِ ملک 30 ہزار سے زائد اسکول وابستہ ہیں، قومی تعلیمی ترجیحات اور پالیسی مقاصد کے مطابق وقتاً فوقتاً اپنے نصاب میں تبدیلیاں کرتا رہتا ہے ۔
تاہم اپوزیشن رہنما نصابی اصلاحات میں زیادہ شفافیت اور پیشگی منصوبہ بندی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، خصوصاً ان اصلاحات میں جو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح کے طلبہ کو متاثر کرتی ہیں۔پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کی اس تازہ مداخلت سے زبان کی تعلیم اور قومی تعلیمی پالیسی کے تحت اصلاحات کے نفاذ پر جاری بحث کے مزید شدت اختیار کرنے کی توقع ہے ۔