اندرون 20 تا 29 سال 10 کارپوریٹرس سب سے زیادہ 40 تا 49 سال کے 59 کارپوریٹرس
حیدرآباد :۔ گریٹر حیدرآباد کے جی ایچ ایم سی انتخابات میں نوجوانوں نے اپنی قسمت آزمائی کی ہے ۔ چند نوجوانوںنے سیاسی وارث کے طور پر سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کی ہے تو چند نوجوانوں نے سماجی خدمات کے طور پر سیاست میں قدم رکھا ہے ۔ نریڈ میٹ ڈیویژن کے سوائے 149 ڈیویژنس کے نتائج برآمد ہوگئے ۔ کامیابی حاصل کرنے والے کارپوریٹرس میں خواتین کی تعداد 78 ہے جب کہ 71 مرد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ جن میں 20 تا 29 سال عمر والے 10 امیدوار کامیاب ہوئے 30 تا 39 سال عمر والے 43 امیدوار 40 تا 49 سال عمر والے سب سے زیادہ 59 امیدوار 50 تا 59 سال عمر والے 35 افراد 60 سال عمر مکمل کرنے والے 2 امیدوار شامل ہیں جو ( ریاست نگر اور لنگوجی گوڑہ ) ڈیویژنس سے کامیاب ہوئے ہیں ۔ 6 نو منتخب کارپوریٹرس ایسے جو غیر شادی شدہ ہے اور وہ پتھر گٹی ، اپوگوڑہ ، نواب صاحب کنٹہ ، کواڑی گوڑہ ، یوسف گوڑہ اور سیتاپھل منڈی سے کامیاب ہوئے ہیں ۔ سیاست کے لیے اکثریت کی رائے منفی پائی جاتی ہے ۔ جب بھی طلبہ سے سوال کیا جاتا ہے وہ مستقبل میں کیا کریں گے ہر کوئی ڈاکٹر ، انجینئر ، آئی پی ایس ، آئی اے ایس یا دوسرے پروفیشنل کورسیس میں اپنی دلچسپی دکھاتا مگر کوئی لیڈر بننے کی خواہش کا اظہار نہیں کرتا ۔ عام زبان میں بولا جائے تو لوگ سیاست کو دلال سمجھتے ہیں اور اسی میں شامل ہونے پر دلدل میں پھنس جانے کا احساس رکھتے ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سمجھدار ، خدمت کا جدبہ رکھنے ایماندار ، دیانتدار لوگوں کی جانب سے سیاسی میدان سے دوری اختیار کرنے کی وجہ سے سیاست میں بدعنوان ، مفاد پرست ، تاجرین ، غنڈہ عناصر سیاست میں حصہ لے رہے ہیں اور انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے کروڑہا روپئے خرچ کرکے کامیابی حاصل کررہے ہیں اور ایوانوں میں داخل ہورہے ہیں بعد میں بدعنوانیاں کرتے ہوئے عوامی دولت کا بیجا استعمال کررے ہیں ایسے دور میں نوجوانوں کو بالخصوص خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کو سیاست میں داخلہ لینے کا وقت آگیا ہے جس سے سماج میں تبدیلی آسکتی ہے ۔شہر حیدرِآباد کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاست سے غنڈہ گردی اور بدعنوانیوں کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو حق رائے دہی سے بھر پور استفادہ کریں ۔۔