میلبورن۔ عالمی نمبر 2 ٹینس کھلاڑی ڈینیل میدویدیف نے کہا ہے کہ انہیں اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ ہیاور اتوار کو رافل نڈال کے خلاف آسٹریلین اوپن کے خطابی مقابلے سے پہلے ان پر کوئی دباؤ نہیںہے۔ نڈال 21 سنگلز گرانڈ سلام جیتنے اور سوئس کھلاڑی راجر فیڈرر اور سربیا کے عالمی نمبر ایک نوواک جوکووچ کے ساتھ مشترکہ ریکارڈ توڑنے والا تاریخ کا پہلا کھلاڑی بننا چاہتے ہیں جو فی الحال 20 خطابات کے ساتھ مشترکہ مقام پر ہیں۔ میدویدیف نے اتوار کو ہونے والے فائنل میں رسائی سے قبل جمعہ کو چوتھے سیڈ یونانی اسٹیفانوس سِتسیپاس کو 7-6 (5)، 4-6، 6-4، 6-1 سے شکست دی۔ روسی کھلاڑی نے 2021 کے یو ایس اوپن کے فائنل میں نوواک جوکووچ کو شکست دینے کے بعد اگلے گرانڈ سلام ایونٹ میں اپنے پہلے بڑے خطاب کے بعد دوسرا متواتر خطاب حاصل کرنے کے خواہاں ہیں ۔اس ضمن میں انہوں نے کہاکہ مجھ پر واقعی زیادہ دباؤ نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جب میں اچھا کھیل رہا ہوں تو میں کیا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں کسی کو بھی شکست دے سکتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا ہے میں جانتا ہوں (یو ایس اوپن کے بعد) کہ میں لگاتار سات میچ جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہوں اور نوواک کے خلاف آخری میچ مسابقتی تھا۔ اس لیے میں اس ٹورنمنٹ سے پہلے جانتا تھا کہ یہ ممکن ہے میں یہی کوشش کر رہا ہوں اور ثابت کرنے کے خواہاں ہوں۔روسی کھلاڑی اس پہلے میلبورن میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں ایک قدم آگے جانے کے خواہاں ہیں کیونکہ آخری مرتبہ وہ فائنل میں جوکووچ خلاف شکست برداشت کی تھی ۔ فائنل تک رسائی کے ضمن میں میدویدیف نے کہا کہ یہ بہت اچھا سفر رہا ،آسٹریلین اوپن میں کامیاب مہم یہ یقینی طور پر جذباتی رہی ۔ اس کا آغاز نک (کرگیوس) کے خلاف میچ سے ہوا، جو تمام پہلوؤں سے محض جذباتی تھا۔ میرے خیال میں یہ وہیں سے شروع ہوا اور یہ توانائی مختلف انداز میں چلتی رہی۔ ۔ دوسرا مقام کے کھلاڑی میدویدیف اپنے چوتھے بڑے فائنل میں مقابلہ کریں گا جب وہ اتوار کو نڈال کے مد مقابل ہوں گے۔ 2019 میں یو ایس اوپن میں پانچ سیٹ کے سنسنی خیز مقابلے میں نڈال سے ہارنے کے بعد یہ دوسرا موقع ہو گا جب دنیا کے نمبر 2 میدویدیف کسی گرانڈ سلام کے فائنل میں نڈال کا سامنا کریں گے ۔گرانڈ سلام کے اس مرحلے پر میدویدیف کی دیگر دو ملاقاتیں جوکووچ کے خلاف آئیں۔ فائنل کے ضمن میں اظہار خیال کرتے ہوئے میدویدیف نے کہا کہ نڈال واقعی مضبوط ہیں۔ میدویدیف نے بگ 3 (فیڈرر، نڈال اور جوکووچ) کے بارے میں کہا فائنل میں پہنچنا واقعی مشکل ہے اور میں ہمیشہ وہاں ان کو اپنے انتظار میں دیکتھا ہوں لیکن یہ مزے کی بات ہے۔ جب میں آٹھ یا 10 سال کا تھا تو میں دیوار کے ساتھ کھیل رہا تھا اور میں تصورکر رہا تھا کہ یہ دوسری طرف نڈال ہے یا راجر (فیڈرر) کیونکہ اس وقت تک نوواک منظر عام پر نہیں تھے۔