نیشنل ڈیفنس کالج کے عہدیداروں کی چیف سکریٹری شانتی کماری سے ملاقات

   

تلنگانہ میں ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات سے متاثر، چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت کی ستائش
حیدرآباد۔2۔ فروری (سیاست نیوز) نیشنل ڈیفنس کالج کے ایک وفد نے آج چیف سکریٹری تلنگانہ شانتی کماری سے بی آر کے آر بھون میں ملاقات کی ۔ چیف سکریٹری نے وفد کے ارکان کو تلنگانہ حکومت کی جانب سے عمل کی جارہی ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ شانتی کماری نے کہا کہ اگرچہ تلنگانہ ملک کی سب سے کم عمر ریاست ہے لیکن مختلف شعبہ جات میں غیر معمولی ترقی کے ذریعہ دیگر ریاستوں کے مقابلہ نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے ۔ زرعی شعبہ اور صنعتوں کو سخت موسم گرما کے دوران بھی 24 گھنٹے بلا وقفہ برقی سربراہ کی گئی۔ زرعی شعبہ میں اصلاحات کے ذریعہ پیداوار میں اضافہ کو یقینی بنایا گیا۔ چیف سکریٹری نے بتایا کہ تلنگانہ میں جی ایس ڈی پی میں 2022-23 ء میں 13.27 لاکھ کروڑ کا اضافہ ہوا ہے جبکہ 2014 ء میں یہ 5.05 لاکھ کروڑ تھی ۔ تلنگانہ میں انفرادی آمدنی 1.24 لاکھ سے بڑھ کر 3.17 لاکھ ہوچکی ہے۔ نظم و نسق کو عوام سے قریب کرنے کیلئے حکومت نے کئی منفرد اسکیمات متعارف کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کے قیام کے نتیجہ میں ریاست میں کئی ترقیاتی مراکز وجود میں آئے ہیں۔ میونسپلٹیز اور کارپوریشنوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے شہری علاقوں کی ترقی کو تیز کیا گیا۔ مشن بھگیرتا کے ذریعہ ہر گھر کو پینے کا پانی فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں تلنگانہ کی کارکردگی ملک میں ستائش کی نظر سے دیکھی جارہی ہے ۔ ہریتا ہرم پروگرام کے تحت شجرکاری کے ذریعہ دیہی اور شہری علاقوں میں گرین کور میں 7.7 فیصد اضافہ ہوا۔ ریاست بھر میں 270 کروڑ پودے لگائے گئے۔ وفد کے ارکان کا تاثر تھا کہ تلنگانہ میں مضبوط اور نظریاتی قیادت کے سبب ہر شعبہ میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کی اسکیمات کی ستائش کی ۔ خاص طور پر ٹکنالوجی کے فروغ اور ٹی ہب کو سراہا گیا۔ اسپیشل چیف سکریٹری توانائی سنیل شرما ، پرنسپل سکریٹری پنچایت راج سندیپ کمار سلطانیہ ، سکریٹری بہبودیٔ خواتین و اطفال کرسٹینا چنگٹو، سکریٹری ہیلت سید علی مرتضیٰ رضوی ، سکریٹری اگریکلچر رگھونندن راؤ اور دیگر عہدیداروں نے اپنے متعلقہ محکمہ جات کی کارکردگی سے واقف کرایا۔ ر
نیشنل ڈیفنس کالج کے وفد کی قیادت فیکلٹی انچارج پریانک بھارتی کر رہے تھے۔ یہ وفد ملک کے مختلف علاقوں کے مطالعاتی دورہ پر ہے۔ر