آکلینڈ ۔ 7 نومبر (سید مجیب کی رپورٹ) نیوزی لینڈ کے عام انتخابات کے ابتدائی غیر حتمی نتائج میں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہفتہ کی صبح تک ووٹوں کی گنتی کے مطابق وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کی نیشنل پارٹی اور سابق وزیر اعظم کرس ہپکنز کی لیبر پارٹی تقریباً برابر پوزیشن میں ہیں۔ نتیجتاً کسی بھی بڑے سیاسی دھڑے کے لیے حکومت سازی کا واضح راستہ نظر نہیں آ رہا۔ اس انتخاب میں ایک بڑی پیش رفت آپرچیونٹی پارٹی کا ابھرنا ہے، جو پہلی بار پارلیمان میں داخل ہونے کی پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی کی 38 سالہ رہنما چیولے وونگ نے بہت ہی کم مدت میں مقبولیت حاصل کی اور خود کو روایتی سیاسی تقسیم سے ہٹ کر ایک متبادل کے طور پر پیش کیا۔ انتخابی مہم کے دوران مہنگائی، افراط زر اور کمزور معیشت ووٹرز کے اہم ترین مسائل رہے۔ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں جبکہ بے روزگاری بھی ایک دہائی سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن اپنی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے نئے ٹیکس نہ لگانے کے وعدے کے ساتھ میدان میں اترے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم کرس ہپکنز کی لیبر پارٹی عوام کو ریلیف دینے کے لیے مفت طبی سہولیات اور پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں کی حد مقرر کرنے جیسے وعدے کرتی رہی۔