کٹھمنڈو 29 اگسٹ ( ایجنسیز ) نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد اب راحت و امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے بعد ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ پھیل گیا ہے اور بچاؤ کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تاحال اس سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 675 بتائی گئی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ جملہ تین ہزار افراد کو جو ملبے میں اور کیچڑ وغیرہ میں پھنسے ہوئے تھے اب تک بچالیا گیا ہے جن میں 163 بیرونی شہری شامل ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ تبت کی سمت سرحد میں سات افراد کی موت ہوئی ہے ۔ نیپال میں بڑے پیامانے پر تلاش اور بچاؤ کے کام جاری ہیں ۔ کیچڑ کی وجہ سے اس کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ نیپال کے محکمہ موسمیات کی جانبس ے سیلاب زدہ علاقوں میں مزید بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں راحت اور بچاؤ کے کام متاثر ہوسکتے ہیں اور صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے ۔ اس دوران چینی حکام نے کہا کہ گلیشئیر گرنے سے جو جھیل بن گئی تھی اس کا خطرہ اب کم ہونے لگا ہے ۔ سٹیلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اس جھیل میں پانی کی سطح میں کمی آئی ہے ۔ نیپالی فوج کے رابطہ عام ڈائرکٹوریٹ نے بتایا کہ تاحال 2,465 افراد کو بچایا گیا ہے جن میں 163 بیرونی شہری شامل تھے ۔ ان میں 113 ہندوستانی ‘ 26 چینی ‘ 15 جنوبی کوریائی اور چار جرمن شہری شامل ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ہائڈرو پاور پراجیکٹس کی سرنگوں میں پھنسے ہوئے 191 افراد کو بھی بچالیا گیا ہے ۔ نیپال کے وزیر فینانس سورنم واگلے کا کہنا ہے کہ نیپال کو اس تباہی کے بعد تعمیر نو اور باز آبادکاری کیلئے چار تا پانچ بلین ڈالرس کی ضرورت ہوگی ۔ یہ بھی محض اندازہ ہے اور ابھی نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔