نیپال میں پھر بحران، بوڑھی گنڈک ندی میں سیلاب سے تباہی

   

کئی پل اور مکانات بہہ گئے ، 10 افراد لاپتہ‘اتر پردیش اور بہار تک خطرہ

کھٹمنڈو۔11 اکتوبر (ایجنسیز)نیپال کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی آفات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گورکھا ضلع میں اتوار کی صبح بوڑھی گنڈک ندی میں اچانک آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ندی کے تیز بہاؤ میں 35 سے زیادہ مکانات اور کئی پل بہہ گئے جبکہ کم از کم 10 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن چلایا جا رہا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق، بالائی پہاڑی علاقوں میں شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چونچوبری سیاری ندی کا راستہ بند ہو گیا تھا۔ اس کی وجہ سے ایک مقام پر بڑی مقدار میں پانی جمع ہو گیا۔ جب یہ قدرتی رکاوٹ ٹوٹی تو پانی اچانک تیز بہاؤ کے ساتھ نشیبی علاقوں کی طرف بڑھ گیا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ اس سیلاب کی زد میں 341 میگاواٹ کا بوڑھی گنڈک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بھی آ گیا۔ اس کے زیر تعمیر کیمپ اور کئی مشینیں پانی میں بہہ گئیں۔ انتظامیہ نے ندی کے کنارے آباد سردی باس، دھارچے، کھورلابیسی، ماچھا کھولا، سوتی اور آروگھاٹ جیسے علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ وزیر داخلہ کی ہدایت پر راحت اور بچاؤ کے کاموں کیلئے ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیے گئے ہیں۔نیپال میں آنے والے اس اچانک سیلاب کے اثرات ہندوستان کی پڑوسی ریاستوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر مرکزی آبی کمیشن نے اتوار 11 اکتوبر کو خصوصی احتیاط برتنے کیلئے ایڈوائزری جاری کی۔ کمیشن کے مطابق، بوڑھی گنڈک ندی کا پانی آگے چل کر تریشولی اور نارائنی یعنی گنڈک ندی کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہوتا ہے۔اتر پردیش اور بہار تک اس کا خطرہ ہے۔
دہلی۔ چینائی انڈیگو پرواز کے دوران پاور بینک میں آتشزدگی، حیدرآباد میں ہنگامی لینڈنگ
حیدرآباد، 11 اکتوبر (یو این آئی) دہلی سے چینائی جا رہی انڈیگو کی ایک پرواز کو اتوار کے روز اس وقت راجیو گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈہ (شمس آباد) کی طرف موڑنا پڑا جب دوران پرواز ایک مسافر کے پاور بینک میں اچانک آگ لگ گئی۔ اس واقعہ سے مسافروں میں افراتفری مچ گئی۔انڈیگو کی پرواز اپنے مقررہ وقت سے تقریباً 20 منٹ کی تاخیر سے دوپہر تقریباً 1:30 بجے دہلی سے روانہ ہوئی تھی۔ سفر کے دوران اوپر سامان رکھنے کی جگہ میں رکھے ایک پاور بینک سے دھواں اور شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔
طیارے میں تعینات عملے کے چوکس ارکان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے طیارے میں موجود حفاظتی آلات کا استعمال کیا اور آگ پر فوراً قابو پا لیا، جس سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ اس کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر طیارے کو حیدرآباد ہوائی اڈے پر ہنگامی طور پر اتارا گیا۔اطلاعات کے مطابق، ہوائی اڈے کے حکام نے مسافروں کو چنئی پہنچانے کے لیے دوسری متبادل پرواز کا انتظام کیا ہے ۔ واقعے کی تفصیلی معلومات کا انتظار ہے ۔