اے آر آر سی آئی کے سائنسدان تاتا راؤ کا بیان
حیدرآباد۔/24 فروری، ( سیاست نیوز) کورونا قہر اور مشکل حالات میں ماسک کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ وائرس کی روک تھام کیلئے تقریباً تمام مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازم کردیا گیا تاہم اب کورونا کے علاوہ دیگر امراض بالخصوص وائرس کی روک تھام اور اس سے بچاؤ کیلئے مارکٹ میں ایک نئے ماسک کی ایجاد کی گئی ہے۔ وائرس کے علاوہ وائرل انفیکشن سے بچاؤ کے ماسک بھی تیار کئے جانے لگے ہیں۔ اس طرح کے ماسک کو انٹرنیشنل ایڈوانسڈ ریسرچ سنٹر فار ہاوڈر میٹالرجی ( اے آر سی آئی ) اور سنٹر فار سلیولر اینڈ مالیکولر بائیولوجی (سی سی ایم بی ) کے سائنسدانوں کی جانب سے تیار کیا گیا ہے ۔ تانبہ کے نانو سائز میں استعمال کرتے ہوئے اس ماسک کو تیار کیا گیا ہے۔ اس نئے طریقہ کے ماسک کو بنگلورو سے تعلق رکھنے والے ریسل کیمیکلس کی جانب سے مارکٹ میں متعارف کروایا جارہا ہے۔ بیکٹیریا، وائرس کو روکنے میں کامیاب ماسک مارکٹ میں فی الحال دستیاب ہیں لیکن اس کی قیمت زیادہ ہے۔ اس کے سبب ( اے آر سی آئی ) اور سی سی ایم بی ادارہ نے مارکٹ میں کم قیمت کے ماسک متعارف کروایا ہے۔ مرکزی حکومت کے ڈپارٹمنٹ آف سائینس اینڈ ٹکنالوجی کی جانب سے ناٹو مشن کے تحت 20 نانو میٹرس سائز تانبے والے ماسک کو تیار کیا جارہا ہے۔ کپڑے پر تانبے کے تاروں کے سبب 99.09 فیصد بیکٹیریا کو ختم کرنے کی اس ماسک میں صلاحیت رہتی ہے۔ یہ بات اے آر سی آئی کے سائینسدان تاتا راؤ نے بتائی جبکہ سی سی ایم بی سائینسدانوں کے تجربہ میں بھی اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائرس کا خاتمہ 99.9 فیصد رہے گا۔ اس ماسک کو بار بار دھوکر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امکان ہے کہ ماسک بہت جلد مارکٹ میں دستیاب رہیں گے۔ ع