ورکرس کی برہمی ‘نوشتہ دیوار

   

افسوس اس چمن سے مجھے خار ہی ملے
مدت سے جس چمن کو میں دیتا رہا لہو
نوئیڈا میں کئی صنعتی یونٹوں کے مزدوروں اور ورکرس نے آج ایک پرتشدد احتجاج کرتے ہوئے اپنے ڈیوٹی کے حالات کو بہتر بنانے اور تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کیا ۔ ورکرس کا کہنا تھا کہ انہیں 12 گھنٹوں تک کام کرنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے اور ان کی تنخواہیں محض 13 ہزار روپئے تک ہیں۔ ورکرس کا مطالبہ تھا کہ ان کے کام کے اوقات کو 8 گھنٹے کیا جائے اور ان کی تنخواہ کو 20 ہزار روپئے کیا جائے ۔ ہریانہ میں حکومت کی جانب سے ورکرس کی اقل ترین اجرتوں میں اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد نوئیڈا کے ورکرس نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ۔ وہ سڑکوں پر اتر آئے اور احتجاج نے پرتشدد موڑ اختیار کرلیا ۔ نوئیڈا کے ورکرس کا کہنا تھا کہ جب ہریانہ میں ورکرس کی اجرتوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے تو پھر ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیوں نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں نے ان کے ساتھ استحصال کیا جا رہا ہے اور انہیں طویل وقت تک کام کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔ انہیں اوور ٹائم دئے بغیر محنت لی جا رہی ہے اور ان کی تنخواہیں بھی معمولی ہیں جس کی وجہ سے انہیں اپنی زندگی گذارنے کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ نوئیڈا کا واقعہ حالانکہ اچانک پیش آیا ہے تاہم اس سے روزگار کی مارکٹ کے انتہائی نامساعد حالات کی عکاسی ہوتی ہے ۔ نوئیڈا کا واقعہ حکومت کیلئے نوشتہ دیوار سے کم نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ورکرس میں بے چینی اور عدم اطمینان کی کیفیت ہے اور وہ شدید ذہنی دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ ملازمین کو ایک اچانک موقع ہاتھ آیا اور انہوں نے اپنی ناراضگی اور برہمی کا اظہار کردیا ۔ حالانکہ انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے جس سے گریز کیا جانا چاہئے تھا تاہم وہ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پر اترنے کو تیار دکھائی دئے ہیں۔ یہ صورتحال محض نوئیڈا تک محدود نہیں کہی جاسکتی ۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بھی اسی طرح کی صورتحال ہوسکتی ہے اور اس جانب حکومت کو توجہ کرتے ہوئے اس مسئلہ کا حل دریافت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ورکرس کا استحصال ہونے نہ پائے ۔
کسی بھی شعبہ کیلئے ورکرس انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ ہندوستان بھر میں جو مینوفیکچرنگ یونٹس ہیں ان میں ورکرس کی کارکردگی کی وجہ سے ہی کمپنیوںکو ترقی حاصل ہوتی ہے ۔ ان کی تجارت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ پیداوار میں اضافہ کی وجہ سے ان کے نفع میں اضافہ ہوتا ہے اور نئی یونٹس بھی قائم کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے ۔ تاہم اگر پہلے سے موجود کمپنیوں اور یونٹس میں ہی ورکرس کا استحصال کیا جائے تو پھر اس کے طویل وقت میں منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جس طرح سے نوئیڈا کے ورکرس نے آج احتجاج کیا اس سے نصف صدی قبل کی ہندی فلموں کی یاد تازہ ہوگئی کہ کس طرح سے ورکرس اپنے مطالبات اور حقوق کیلئے احتجاج کا راستہ اختیار کرتے تھے ۔ یہ صورتحال تیز رفتار سے ترقی کرتی ہوئی ہندوستانی معیشت کیلئے قطعی اچھی نہیں ہوسکتی ۔ اس احتجاج نے واضح کردیا ہے کہ بھلے ہی ملک کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہو اور ملک بھر میں اس کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جا رہا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے ثمرات ورکرس تک نہیں پہونچ رہے ہیں اور ورکرس میں شدید بے چینی اور ناراضگی ہے اور یہ بے چینی اور ناراضگی کسی بھی وقت ایک بڑے احتجاج کی شکل اختیار کرسکتی ہے ۔ آج ایک شہر نوئیڈا میں یہ احتجاج شروع ہوا اور اس کے دوسرے شہروں میں بھی پھوٹ پڑنے کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر کسی اور مقام پربھی احتجاج شروع ہوجائے تو پھر حالات بگڑسکتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں حالات قابو سے باہر بھی ہوسکتے ہیں ۔
ملک کی معیشت کو مستحکم رکھنے اور تیز رفتار ترقی کے سفر میں کسی رکاوٹ کو حائل ہونے سے روکنے کیلئے ضروری ہے کہ ایسی صورتحال کا ازالہ کیا جائے ۔ ورکرس کو اعتماد میں لینے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ صرف کارپوریٹس کو مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کی بجائے ورکرس کو بھی ان کے جائز اور واجبی حقوق دلانے کیلئے حکومت کو حرکت میں آنا چاہئے ۔ کسی بھی فیکٹری یا کمپنی میں ورکرس کے استحصال کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے اور ورکرس میں اطمینان پیدا کرنے پر اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ اس حقیقت کو بھی حکومت کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ورکرس کو یا ان کی بے چینی کو زیادہ وقت تک دبایا نہیں جاسکتا ۔ مستقبل کے اندیشوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔