وزیراعظم مہامدو کی انقلابیوں کیخلاف بین الاقوامی امداد کی اپیل

   

نائیجر : نائیجر کے وزیر اعظم مہامدو نے اپنے ملک میں انقلاب برپا کرنے والوں کے خلاف بین الاقوامی مدد کی اپیل کی ہے۔پریس کو ایک بیان میں، مہامدو نے مغربی افریقہ میں جمہوریت کے دفاع کی ضرورت پر زور دیا اور عالمی برادری سے بغاوت کی سازش کرنے والوں کے خلاف مدد کی درخواست کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کے لیے کے لیے اٹلی گئے تھے اوروہ واپس اپنے ملک نہیں پہنچ سکے ہیں کیونکہ بغاوت کے سازش کاروں نے سرحدیں بند کر دی تھیں۔ مہامدو نے کہا کہ وہ فرانس میں ہیں۔بغاوت کے حوالے سے مہامدو نے کہا کہ “یہ ایک تباہی ہے کیونکہ نائجر ایک حساس ملک ہے۔ 40 لاکھ لوگوں کو خوراک کے مسائل ہیں اور ملک میں 300,000 پناہ گزین موجود ہیں۔2020 سے مالی، برکینا فاسو اور گنی میں ہونے والی بغاوتوں کی یاد دلاتے ہوئے، مہامدو نے اس بات پر زور دیا کہ اگر نائیجر میں بغاوت کرنے والی انتظامیہ کو تسلیم کرلیا گیا تو مغربی افریقہ میں جمہوریت مکمل طور پر خطرے میں پڑ جائے گی۔مہاممدو نے کہا یہ ECOWAS (مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری) ممالک کے لیے بقا کا معاملہ ہے اور بین الاقوامی برادری کے لیے ساکھ کا معاملہ ہے۔ نائجر کو ایک جمہوری ریاست رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نائیجر خطے میں جمہوریت کو فروغ دینے اور جنوب کے ممالک میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سنگ بنیادکی حیثیت رکھتا ہے وزیر اعظم مہامدو نے کہا نے کہا کہ نائجر میں بغاوت صدر محمد بازوم کو صدارتی گارڈ رجمنٹ کے عناصر نے 26 جولائی کو حراست میں لے لیا، اور اسی شام فوج نے اعلان کیا کہ انہوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔