میں نے کبھی سیاست نہیں کی، خاتون ہونے کی سزاء توہین کی صورت میں، تلنگانہ حکومت کے بارے میں سنسنی خیز ریمارکس
حیدرآباد۔/6 اپریل، ( سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے درمیان بڑھتے اختلافات کا معاملہ نئی دہلی پہنچ گیا۔ گورنر ڈاکٹر سوندرا راجن نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے انہیں نظرانداز کرنے کی شکایت کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جبکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بھی نئی دہلی میں قیام پذیر ہیں۔ حضورآباد کے ضمنی چناؤ سے ہی راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان دوریوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔ حکومت کی جانب سے گورنر کوٹہ میں کوشک ریڈی کو ایم ایل سی نامزد کرنے کی حکومت کی سفارش کو گورنر نے نامنظور کردیا تھا۔ اس کے بعد سے چیف منسٹر نے گورنر کی کسی بھی تقریب میں شرکت نہیں کی حتیٰ کہ اُگادی تقاریب میں گورنر کو پرگتی بھون کے پروگرام میں شرکت کیلئے مدعو نہیں کیا تھا۔ گورنر سوندرا راجن نے وزیر اعظم کو ریاست کی سیاسی صورتحال اور کے سی آر حکومت کی جانب سے دستوری عہدہ کو نظرانداز کرنے کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ بجٹ اجلاس کے آغاز کے موقع پر گورنر کے خطبہ کو نظرانداز کرنے کا معاملہ بھی وزیر اعظم کے علم میں لایا گیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر سوندرا راجن نے کہا کہ دستور کے مطابق راج بھون کا احترام کیا جانا چاہیئے۔ چیف منسٹر کبھی بھی میرے دفتر کو آسکتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ چیف سکریٹری سومیش کمار کیا پروٹوکول سے واقف نہیں ہیں؟ ۔ سوندرا راجن نے کہا کہ گورنر کے عدم احترام کے معاملہ کو وہ عوام پر چھوڑ رہی ہیں۔ حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات بحال رکھنا میری عین خواہش ہے۔ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ میرے حدود کیا ہیں۔ آپ کے کہنے کے مطابق عمل نہ کرنے پر کیا گورنر کے عہدہ کی توہین کی جائے گی؟ ۔’’ میں نے تلنگانہ میں اپنے اختیارات چلانے کی کوشش نہیں کی۔ میں ایک فرینڈلی شخصیت ہوں، کوئی متنازعہ شخصیت نہیں۔ میں نے حکومت کے کسی بھی اقدام کو نہیں روکا ہے۔ ‘‘ گورنر نے کہا کہ تلنگانہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے۔ خاتون گورنر ہونے کے سبب میری توہین کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شخصی طور پر میری توہین پر اعتراض نہیں لیکن گورنر کے دستوری عہدہ اور دستور کا کم از کم احترام کیا جانا چاہیئے۔ گورنر نے میڈیا سے کہا کہ وہ حکومت سے سوال کرے کہ گورنر کے ساتھ توہین آمیز رویہ کیوں اختیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہر چیز سے واقف ہیں۔ انہیں خاص طور پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں قانون کے مطابق ہی اپنا کام انجام دوں گی۔ کوشک ریڈی کو گورنر کوٹہ میں ایم ایل سی امیدوار نامزد کیا گیا۔ گورنر کوٹہ میں عوامی خدمات انجام دینے والے شخص کو نامزد کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل کے ایم جی ایم ہاسپٹل میں مریض پر چوہوں کے حملے کے واقعہ سے انہیں دکھ پہنچا ہے۔ گورنر نے کہا کہ تلنگانہ اور پوڈوچیری میں ٹیکہ اندازی مہم سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کیلئے وہ نئی دہلی آئی ہیں۔ گورنر نے سرکاری دواخانوں میں طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کی وزیر اعظم سے درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت میرے ساتھ جانبداری کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ گورنر کے عہدہ کو جو عزت ملنی چاہیئے وہ حاصل نہیں ہے۔ پروٹوکول پر عمل کرنا چیف سکریٹری کی ذمہ داری ہے۔ شخصیت کے بجائے کم از کم عہدہ کو پیش نظر رکھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کوشک ریڈی کے مسئلہ پر انہوں نے اپنی رائے سے حکومت کو واقف کرایا تھا کیونکہ میں حکومت کی سفارش سے مطمئن نہیں تھی لہذا میں نے فائیل کو زیر التواء رکھا۔ انہوں نے کہا کہ بعض وجوہات کو بنیاد بناکر گورنر کے دفتر کی توہین کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے کسی بھی مسئلہ پر سیاست کی ہو تو اسے منظر عام پر لایا جائے۔ چیف منسٹر کسی بھی مسئلہ پر مجھ سے راست بات چیت کرسکتے ہیں۔ گورنر نے تلنگانہ میں گریجن طبقات کے مسائل سے وزیر اعظم کو واقف کرایا اور بتایا کہ ریاست میں گریجن طبقہ کی آبادی 11 فیصد ہے۔ انہوں نے حال ہی میں قبائیلی علاقوں کے دورہ کی تفصیلات سے بھی وزیر اعظم کو واقف کرایا۔ر
خاتون ہونے کے سبب گورنر سوندرا راجن کی توہین افسوسناک
چیف منسٹر کو راج بھون سے اختلافات ختم کرنے کانگریس رکن کونسل جیون ریڈی کا مشورہ
حیدرآباد۔/6 اپریل، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن کونسل جیون ریڈی نے ریاست کی خاتون گورنر کے ساتھ تلنگانہ حکومت کے توہین آمیز رویہ کی مذمت کی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ حکومت کو کم از کم دستوری عہدہ کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیئے۔ خاتون ہونے کی حیثیت سے گورنر زیادہ احترام کی مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستوری عہدوں کا احترام کریں۔ گورنر نے اپنے دستوری فرائض انجام دیتے ہوئے حکومت کو بعض تجاویز پیش کی تھیں جس پر کے سی آر ناراض ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سمکا سارلماں جاترا میں شرکت کیلئے گورنر یادادری بھونگیر ضلع پہنچیں تو ان کا پروٹوکول کے مطابق استقبال نہیں کیا گیا۔ گورنر کے خطبہ کے بغیر پہلی مرتبہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اُگادی تقاریب میں چیف منسٹر اور کسی بھی وزیر کے علاوہ اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت نہیں کی۔ یہ پہلا موقع ہے جب اگادی تقاریب کا حکومت کی جانب سے بائیکاٹ کیا گیا۔ راج بھون کی تقاریب میں چیف منسٹر کی عدم شرکت دراصل دستوری عہدہ کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو گورنر کے عہدہ کا احترام کرتے ہوئے راج بھون سے کشیدگی کو ختم کرنا چاہیئے۔ ر
کانگریس کے اندرونی معاملات کے بارے میں سوال پر جیون ریڈی نے کہا کہ کانگریس ایک قومی پارٹی اور سمندر کی طرح ہے جہاں انفرادی طور پر اختلاف رائے کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قائدین متحدہ طور پر انتخابات کا سامنا کریں گے۔ جیون ریڈی نے بتایا کہ راہول گاندھی جاریہ ماہ کے اواخر میں تلنگانہ کا دورہ کرسکتے ہیں۔ر