ترمیم شدہ وقف قانون نے مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع سمیت ملک کے کئی حصوں میں بدامنی کو جنم دیا تھا۔
کولکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت وقف املاک یا مذہبی اداروں میں کسی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دے گی۔
ترمیم شدہ وقف ایکٹ اس سال 8 اپریل کو نافذ ہوا تھا۔ ترنمول کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے نئے قانون پر اعتراض کیا، جن کی بعض دفعات پر سپریم کورٹ نے روک لگا دی تھی۔
بنکورا ضلع کے برجورہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بنرجی نے کہا، ’’ہم وقف املاک کو چھیننے نہیں دیں گے، کسی کو کسی مذہبی مقام کو چھونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اقتدار میں ہیں ہم وقف املاک کو چھیننے نہیں دیں گے۔ میں مذہب کی سیاست نہیں کرتی۔ میں مندروں، مساجد یا گرجا گھروں کو گرانے کی اجازت نہیں دوں گی۔
ترمیم شدہ وقف قانون نے مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع سمیت ملک کے کئی حصوں میں بدامنی کو جنم دیا تھا۔
