وقف بل کیخلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی:مولانا ارشد مدنی

   

نئی دہلی: وقف ترمیمی بل کو مسترد کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند (م)کے صدر مولانا مدنی نے کہا کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعہ تما م جمہوری قدروں اورمسلمانوں کے دستوری حقوق کو پامال کرتے ہوئے 14ترمیمات کے ساتھ جووقف بل اسپیکر کو پیش کیا گیاتھا اسے آج مرکزی حکومت نے منظوری کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کردیاہے ۔یہ بات انہوں نے جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ مولانا مدنی نے اس ترمیمی وقف ایکٹ پر اپنے تحفظات اورخدشات کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ جس اندیشہ کا اظہارکیاجارہاتھا وہ درست ثابت ہوا، ان ترمیمات کے ذریعہ مرکزی حکومت وقف جائدادوں کی حیثیت اورنوعیت کو بدل دینا چاہتی ہے تاکہ ان پر قبضہ کرکے مسلم وقف کی حیثیت کو ختم کرناآسان ہوجائے ۔انہوں نے وضاحت کی کہ پہلے دفعہ 3میں وقف کرنے اس کے صحیح ہونے یانہ ہونے کا فیصلہ وقف بورڈکیا کرتاتھا، اب موجودہ ترمیم میں کلکٹرکو دیدیاگیاہے ، لیکن اب موجودہ وہ چودہ ترامیم جن کوآج پارلیمنٹ میں پیش کیاگیاہے ، اس میں ایک نئی ترمیم میں کلکٹرسے کسی اونچے درجہ کے گورنمنٹ آفیسرکو انکوائری کا حق دیدیاہے جو فیصلہ کرے گاکہ یہ جائداد سرکاری ہے یاوقف کی زمین ہے ، اوررپورٹ دے گاجب تک رپورٹ نہیں آئے گی وہ جائداداسی دن سے وقف نہیں مانی جائے گی، گویا اگر پچاس سال تک بھی رپورٹ نہیں آئی وہ جائدادوقف کی نہیں مانی جائے گی۔انہوں نے آگے کہا کہ وقف بائی یوزر یعنی جو وقف جائداد صورت یا استعمال کے اعتبارسے وقف سمجھی جاتی رہی ہے ۔