وقف بورڈ کی تحلیل کا منصوبہ غیر قانونی

   

بورڈ کے اراکین کا تجویز کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے پر غور
حیدرآباد۔8۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تحلیل کے اقدامات کی صورت میں ’محکمہ اقلیتی بہبود‘ اور حکومت تلنگانہ کو ایک اور مقدمہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود بالخصوص ریاستی وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین ‘ مشیر حکومت برائے اقلیتی بہبود جناب محمد علی شبیر ‘ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب بی شفیع اللہ آئی ایف ایس وقف بورڈ کی تحلیل کے سلسلہ میں جو منصوبہ تیار کر رہے ہیںوہ غیر قانونی ہے اور اس کے خلاف اراکین بورڈ عدالت سے رجوع ہونے کے متعلق مشاورت کرنے لگے ہیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت وقف مرممہ قوانین 2025 پر عمل آوری کرنا بھی اگر چاہتی ہے تو دوبارہ موجودہ بورڈ کے اراکین کی از سر نو نامزدگی کے سلسلہ میں ’’جی ۔او‘‘ جاری کرتے ہوئے بورڈ کو برقرار رکھنے کے علاوہ بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کرسکتی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود پر اپنے ’کنٹرول‘ کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے بورڈ کی ازسرنوتشکیل کے احکامات کی اجرائی کے ذریعہ بورڈ کے اجلاس کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود ’’مثبت ‘‘ حل تلاش کرنے اور قانون میں دی گئی گنجائش کے مطابق عمل آوری کے بجائے ’بورڈ ‘ کو برخواست کرنے کے لئے بورڈ کے معیاد مکمل ہونے یا اسے تحلیل کرنے کے اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ بورڈ کی جگہ ’’اسپیشل آفیسر ‘‘ کے تقرر کے ذریعہ حکومت کی مرضی کے مطابق موقوفہ جائیدادوں کو راست یا ہراج کے ذریعہ فروخت کرنے میں کسی بھی طرح کی کوئی رکاوٹ نہ ہواور نہ ہی وقف بورڈ کی جائیدادوں کو کرایہ یا طویل مدتی لیز پر دینے کے لئے وقف بورڈ کے اجلاس میں بورڈ کی منظوری کا انتظار نہ کرنے پڑے بلکہ اپنی مرضی کے عہدیدار کے ذریعہ ’’من مانی ‘‘ احکامات کی اجرائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ منتخبہ و نامزد اراکین وقف بورڈ کے درمیان جاری مذاکرات کے متعلق موصول ہونے والے اطلاعات میں کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت یا محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اگر بورڈ کو تحلیل کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اراکین اپنے معیاد کی تکمیل تک برقراری کے معاملہ میں عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے حکم التواء حاصل کرسکتے ہیں۔3/a/b