وقف ترمیمی ایکٹ : سپریم کورٹ میں 5عرضیاں،جمیل مرچنٹ کی عرضی بھی شامل

   

ممبئی: ممبئی کے سماجی کارکن محمد جمیل مرچنٹ ان پانچ افراد میں شامل ہیں جن کی جانب سے حالیہ منظور شدہ اور نافذ العمل وقف (ترمیمی) ایکٹ کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر سپریم کورٹ سماعت کرے گی۔ جمیل مرچنٹ عوامی فلاحی مقاصد کے لیے جانے جاتے ہیں اور مہاراشٹر سے اس معاملے میں واحد درخواست گزار ہیں۔سپریم کورٹ جن پانچ درخواستوں پر سماعت کرے گی، ان میں جمعیت العلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری محمد فضل الرحیم، منی پور نیشنل پیپلز پارٹی کے ایم ایل اے شیخ نورالحسن، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد سے لوک سبھا رکن اسد الدین اویسی اور محمد جمیل مرچنٹ شامل ہیں۔مولانا ارشد مدنی ایک ممتاز اسلامی اسکالر اور ملک بھر میں مسلم کمیونٹی کی اہم آواز مانے جاتے ہیں۔ محمد فضل الرحیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری کے طور پر دینی اور قانونی امور میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ شیخ نورالحسن منی پور سے ایم ایل اے ہیں، جب کہ اویسی ملک کے ایک سینئر پارلیمنٹرین ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم سیاست کے اہم نمائندہ بھی ہیں۔جمیل مرچنٹ نے اس پیشرفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں خوش قسمت ہوں اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ اویسی اور دیگر اہم شخصیات کے درمیان ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کا موقع ملا ہے ۔واضح رہے کہ ممبئی کے رہائشی محمد جمیل مرچنٹ نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر دی ہے ۔ یہ عرضی اس نئے قانون کو چیلنج کرنے والی مہاراشٹر سے پہلی درخواست ہے ۔