کرناٹک اور ٹاملنالو میں قرارداد منظور کرنے کا حوالہ، اکبر الدین اویسی کا اسمبلی میں خطاب
حیدرآباد /27 مارچ ( سیاست نیوز ) مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے وقف ترمیمی بل کو تلنگانہ کی اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مستر کردینے کا کانگریس میں شامل کرنے پر بی جے پی کی مخالفت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ آج تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں تصرف بل مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے کہا کہ کرناٹک اور ٹاملناڈو میں وقف ترمیمی بل کو مسترد کردینے کا حوالہ دیا ۔ اس کے علاوہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو بی سی تحفظات کی فہرست میں شامل کرنے پر بی جے پی کے اعتراض اور مسلمانوں کو بی سی تحفظات کی فہرست سے نکال دینے تک کل جماعتی وفد میں شامل نہ ہونے کا اعلان کرنے پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گجرات ، مہاراشٹرا ، بہار ، آندھراپردیش ، راجستھان ، کرناٹک اور دوسری ریاستوں میں مسلمان بی سی تحفظات کی فہرست میں شامل ہونے کا دعوی کیا ۔ تلنگانہ میں بی جے پی کی جانب سے سیاسی تماشہ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ مرکز میں حکومت تشکیل دینے کیلئے بی جے پی نے نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو کی تائید حاصل کی ۔ مگر بی سی تحفظات میں مسلمانوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر تلنگانہ کے بی سی تحفظات میں مسلمان نہیں چاہتے تو بی جے پی بہار اور آندھراپردیش کے چیف منسٹر کو ہدایت دیں کہ وہ پہلے بی سی تحفظات کی فہرست سے مسلمانوں کو برخواست کردیں ۔ بصورت دیگر ان دونوں جماعتوں کی مرکز میں تائید حاصل کرنے سے انکار کردیں ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت تحفظات کے مخالف ہے ۔ بی سی طبقات کو تحفظات سے محروم کرنے کیلئے بی جے پی مسلمانوں کی بہانہ بازی کر رہی ہے ۔ تلنگانہ میں مذہب کے نام پر نہیں بلکہ سماجی معاشی تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو بی سی ای زمرے میں تحفظات فراہم کیا گیا ہے ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ اقلیتی بجٹ میں ابھی تک صرف 49 فیصد خرچ کیا گیا ہے ۔ گذشتہ سال 1755 کروڑ روپئے خرچ کیا گیا جاریہ سال کم از کم 1800 کروڑ روپئے جاری کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ شہر کے مختلف مقامات پر سڑک توسیع کے دوران جی ایچ ایم سی نے وقف اراضیات حاصل کیا مگر 316 کروڑ روپئے وقف بورڈ کے حوالے نہیں کیا ۔ سالانہ 50 کروڑ روپئے وقف بورڈ کو جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ 2