وقف ترمیمی بل کو ہم مسترد کرتے ہیں، دو ٹوک انداز میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو مکتوب لکھیں

   

ڈاکٹر محمد متین الدین قادری کی مسلمانوں سے اپیل
حیدرآباد ۔ 6 ۔ ستمبر : ( ایجنسیز ) : ڈاکٹر محمد متین الدین قادری اسلامک اسکالر و رکن تاسیسی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے ایک بیان میں علماء کرام ، ائمہ عظام واعظین ذیشان سے گذارش کی ہے کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی نے ہندوستان کے شہریوں سے وقف ترمیمی بل کے بارے میں رائے مانگی ہے رائے دینے کی آخری تاریخ 13 / ستمبر 2024 ہے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحیم مجددی صاحب کی طرف سے سارے اخبارات میں QR کوڈ کے ساتھ اشتہار شائع ہوچکا ہے۔ اس وقف بل میں ترمیمات کے ساتھ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں پیش کیاجس طرح یہ حکومت آے دن مسلم دشمنی کا اظہار کر رہی ہے اس کایہ اقدام اوقافی جائیدادوں سے نہ صرف مسلمانوں کو محروم کرنا ہے بلکہ وشواہندوپریشد کے جانب سے تقریبا 4 ہزار مساجد اور بزرگان دین کے مزارات پر جو جھوٹا دعویٰ ہے اسکے اور اسطرح اور بھی کئی مقدمات وقف کی جائدادوں کے بارے میں ہے اسکا فیصلہ وقف ٹربیونل کے بجائے اختیار کلکٹر کے ہاتھ میں آجائے گا اسطرح عملاً وقف بورڈ حکومت کا ایک ربر اسٹامپ ادارہ بن کے رہ جائے گا۔دوسرے یہ کہ اب ہر وقف بورڈ میں کم از کم 2 ممبر ہندو ہونگے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی قید نہی 13 ممبر بھی غیر مسلم ہو سکتے ہیں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مساجد وقف بورڈ کے تحت ہیں اس لحاظ سے ہر مسجد کمیٹی میں کم از کم دو غیر مسلم ممبرز ہونا چاہیے جبکہ انڈومنٹ جس کے تحت منادر وغیرہ آتی ہیں اس ڈپارٹمنٹ میں مسلمان پر نوکری کرنے پر پابندی ہے اسی طرح گردوارہ پر بندھک کمیٹی میں کوئی مسلمان نہیں آسکتا ہمیں اس پر اعتراض بھی نہیں ہے اسلئے کہ یہ مذہبی اورعبادات رسم و رواج کے معاملات ہیں ٹھیک ہے اسی مذہب کے ممبران ہو تو انکے مذہبی معاملات صحیح چلاسکتے ہیں لیکن مسلمانوں کے مذہبی اداروں اور کمیٹیوں میں غیر مسلم آرکان کا داخلہ حکومت کے منصوبوں کو جو مسلم قوم کی دشمنی پر مبنی ہیں اسکا کھلم کھلا اظہار ہے۔ ذہن میں رہنی چاہیے کہ دستور کے بنیادی حقوق کی دفعات 14 15 اور 25 26 کے خلاف اس بل کے ترمیمی نکات ہیں بورڈ کے QR کوڈ سے روانہ کرنے پر اسکا متن خود آجائیگا اگر آپ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو روانہ کر رہے ہیں تو واضح الفاظ میں لکھنا ہو گا اس بل کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔