وقف ترمیمی قانون کے خلاف ملکاجگیری میں مسلمانوں کا احتجاج

   

سابق سی پی آئی قائد عزیز پاشاہ کی شرکت، سپریم کورٹ کے عبوری احکامات کا خیرمقدم
حیدرآباد۔/18 اپریل، ( سیاست نیوز) ملکاجگری میں مسلمانوں نے وقف ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج منظم کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کو امکانی خطرہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ مقامی مسلمانوں نے نماز جمعہ کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا اور جلسہ عام منعقد کیا جس میں سپریم کورٹ کے عبوری احکامات کا خیرمقدم کیا گیا۔ مسجد اسریٰ کے مصلیوں اور مقامی مسلمانوں نے وقف قانون کے بارے میں سپریم کورٹ کے قطعی فیصلہ کے تعلق سے اپنی فکرمندی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک بھر میں سیکولر طاقتیں سپریم کورٹ سے پُرامید ہیں۔ سابق رکن راجیہ سبھا اور سی پی آئی کے قومی سکریٹری سید عزیز پاشاہ نے اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وقف قانون میں مرکزی حکومت نے دستور کی دفعات 13 ،14،15 اور 21 کی خلاف ورزی کی ہے۔ سپریم کورٹ نے دستوری خلاف ورزیوں کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مقدمہ میں سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری ڈی راجا بھی مقدمہ میں فریق ہیں۔ سپریم کورٹ کے عبوری احکامات کا سیکولر طاقتیں خیرمقدم کرتی ہیں۔ عدالت نے وقف بورڈ اور وقف کونسل میں غیر مسلم ارکان کی شمولیت پر روک لگادی ہے۔ سپریم کورٹ نے وقف بائی یوزر کی شق کو برقرار رکھا ہے۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنی دستوری ذمہ داریوں کی تکمیل کرتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت 96 لاکھ تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد قانون کی تیاری کا دعویٰ کررہی ہے لیکن قانون کی تیاری میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو نظرانداز کردیا گیا۔ عزیز پاشاہ نے مرکزی وزیر کرن رجیجو کی جانب سے قانون سازی میں شفافیت کے دعویٰ کو مسترد کردیا۔ احتجاج کی قیادت صدر سکندرآباد مساجد کمیٹی قیام الدین نے کی۔ مولانا منور علی نے کہا کہ بل کی واپسی تک احتجاج جاری رہے گا۔ صدر مسجد اسریٰ منیجنگ کمیٹی احمد نے بھی مخاطب کیا۔