وقف قانون کیخلاف احتجاج میں ہندو افراد کے قتل کا دعویٰ جھوٹ

   

مرشدآباد کے احتجاج کی ویڈیو کی جانچ کے بعد انکشاف، ٹی وی 9 ہندی کی خبر سے مدد ملی

کولکاتا: پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع میں وقف قانون کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران ایک ہی ہندو خاندان کے تین افراد کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کر دیا گیا ہے۔ویڈیو میں ایک گھر کے سامنے دو مردوں اور دو عورتوں پر پتھراؤ ہوتا دکھائی دیتا ہے، جسے بعض افرادنے فرقہ وارانہ تشدد کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔مرشد آباد، مالدہ اور جنوبی 24 پرگنہ میں وقف بورڈ بل کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ مرشد آباد میں ایک ہی ہندو خاندان کے 3 افراد کو مار کر قتل کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش جیسے حالات بنگال میں پیدا ہو رہے ہیں۔ جہادی غریبوں کے گھروں میں گھس رہے ہیں۔ اگر بنگال کو بچانا ہے تو وہاں صدر راج نافذ کرنا ہوگا۔تاہم، نیوز میٹر کی فیکٹ چیک ٹیم نے اس ویڈیو کی مکمل جانچ کے بعد تصدیق کی ہے کہ یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔ وائرل ویڈیو کا حالیہ پرتشدد احتجاج سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ تقریباً ایک سال پرانی یعنی اپریل 2024 کی ایک پرانی ویڈیو ہے جو راجستھان کے جے پور میں پیش آئے زمین کے تنازعہ سے متعلق ایک واقعہ کی ہے۔ویڈیو کی اصلیت معلوم کرنے کے لیے نیوز میٹر نے ویڈیو کے چند اہم فریمز کو ریورس امیج سرچ کے ذریعے تلاش کیا، جس کے نتیجے میں متعدد خبریں ملیں جن میں یہی ویڈیو شامل تھی۔ٹی وی 9 ہندی نے 8 اپریل 2024 کو اس ویڈیو پر مبنی خبر شائع کی تھی، جس کی سرخی تھی۔ 50 سال سے رہائش پذیر خاندان کو بے گھر کر کے اینٹوں اور پتھروں سے حملہ کر کے بھگا دیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، جے پور کے سانگانیئر علاقے میں زمین کے قبضے کو لے کر 40 سے 50 افراد کے ایک گروہ نے ایک خاندان پر حملہ کیا۔ متاثرہ خاندان کے سربراہ شنکر سویوال نے دعویٰ کیا کہ ان کے آبا و اجداد کی زمین پر کچھ افراد زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اسی دوران ان کے گھر کی خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، اور پھر ان پر پتھروں سے حملہ کیا گیا۔اسی واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ABP Liveنے بھی 8 اپریل 2024 کو خبر دی تھی کہ سانگانیئر علاقے میں 50 سے 60 افراد نے ایک ہی خاندان کے تین افراد پر لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں اور اینٹوں سے حملہ کیا اور انہیں ان کے گھر سے باہر نکال دیا۔
NDTV راجستھان نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ معاملہ ایک پرانا زمین کا تنازعہ تھا، جس میں ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس واقعے کا کسی فرقہ وارانہ مسئلے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔لہٰذا، یہ واضح ہوتا ہے کہ اپریل 2024 میں جے پور میں پیش آئے زمین کے جھگڑے کی ویڈیو کو مغربی بنگال کے موجودہ احتجاج اور تشدد سے جوڑ کر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ مرشد آباد میں جاری وقف قانون مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی اطلاعات تو ہیں، مگر وائرل ویڈیو کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔