میگھا ریڈی اور چناریڈی کے تنازعہ میں اعلیٰ قیادت کے فیصلہ کا انتظار، سیاسی حلقوں میں تجسس
ونپرتی 21 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ونپرتی کانگریس میں شروع ہونے والا اندرونی تنازع روز بروز نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔ مقامی سطح پر شروع ہونے والے اختلافات اب ریاستی دارالحکومت حیدرآباد سے ہوتے ہوئے ملک کے دارالحکومت دہلی تک پہنچ گئے ہیں، جس سے کانگریس حلقوں میں شدید تجسس پیدا ہوگیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آخر کس کی بات منوائی جائے گی اور پارٹی ہائی کمان کس کا ساتھ دے گی؟حال ہی میں منگل کے روز رکن اسمبلی تھوڑی میگھا ریڈی کے علاوہ کئی کانگریس قائدین نے ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ اور رکن پارلیمنٹ ملّو روی سے الگ الگ ملاقات کرکے اپنے خیالات اور مطالبات ان کے سامنے رکھے۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر یہ خبر بھی گردش کرنے لگی کہ چنّا ریڈی کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس سے تنازع مزید گرم ہوگیا۔ ان حالات کے درمیان جمعہ کے روز ریاستی منصوبہ بندی کمیشن کے نائب صدر اور کانگریس کے سینئر رہنما چنّا ریڈی اپنے حامی قائدین کے ساتھ گاندھی بھون پہنچے۔ اس پیش رفت کو سیاسی اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ کیا چنا ریڈی اپنے ساتھ موجود قائدین کی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہائی کمان کو اپنی سیاسی اہمیت کا احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ دوسری جانب رکن اسمبلی تھوڑی میگھا ریڈی اپنے اہم حامیوں اور اپنے گروپ 32 افراد پر مشتمل سینئر قائدین کے ساتھ دہلی پہنچ کر اے آئی سی سی صدر ملکارجن کھرگے سے ملاقات کرتے ہوئے چنا ریڈی کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جس نے سیاسی حلقوں میں مزید دلچسپی پیدا کردی ہے۔ ونپرتی کانگریس کے اندرونی اختلافات کا حیدرآباد سے نکل کر ملک کے دارالحکومت دہلی تک پہنچنا اب سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ایک ہی پارٹی کے دو گروپ اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک طرف گاندھی بھون اور دوسری طرف دہلی میں اپنے اپنے موقف کو اعلیٰ قیادت کے سامنے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے پارٹی کارکنوں میں بھی خاصی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔اب تک زبانی بیان بازی تک محدود رہنے والا ونپرتی کانگریس کا تنازع جب ہائی کمان کے سامنے پہنچ گیا ہے تو آئندہ کے سیاسی حالات پر تجسس بڑھ گیا ہے۔کیا ہائی کمان دونوں گروپوں کے درمیان تال میل پیدا کرکے مفاہمت کرائے گی؟ یا پھر کسی ایک گروپ کے حق میں واضح فیصلہ کرے گی؟ یہ سوال اب اہم بن گیا ہے۔آخرکار مفاہمت کا فارمولہ نافذ ہوگا یا ونپرتی کانگریس میں بالادستی کی جنگ مزید شدت اختیار کرے گی؟ یہی سوال اس وقت سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔