ووٹرس نوٹس کی جانچ پڑتال میں آدھار اور پیان کارڈس کو قبول نہیں کیا جارہا ہے

   

اگر ووٹر معروف ہے تو سماعت کے لیے جانا ضروری نہیں ، سیلف سرٹیفکشن کے ساتھ نمائندہ بھیجنے کی اجازت
اضلاع حیدرآباد ، رنگاریڈی اور میڑچل ملکاجگری میں 40 لاکھ ووٹرس کو نوٹس ، الیکشن کمیشن کے منظور دستاویزات قابل قبول
حیدرآباد : 11ستمبر ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد رنگاریڈی اور میڑچل ملکاجگری اضلاع میں انتخابی حکام کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی تصدیق کا عمل شہریوں کیلئے شدید پریشانی کا باعث بن رہا ہے ، جب ووٹر انکوائری کیلئے شناختی کارڈ مانگا جاتا ہے تو 90فیصد لوگ اپنا آدھار دکھا رہے ہیں اور ساتھ ہی پیان کارڈ پیش کررہے ہیں لیکن انتخابی عہدیدار فی الحال ووٹر انکوائری کے عمل کیلئے ان دونوں کو بالکل قبول نہیں کررہے ہیں ۔ اس وجہ سے روزآنہ 50فیصد سے زیادہ ووٹرس کو بلاتصدیق واپس بھیجا جارہا ہے اور دیگر متبادل شناختی کارڈ لانے کا مشورہ دیا جارہا ہے جس سے ملازمت پیشہ افراد اور مزدور طبقہ کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔ صاحب نگر سمیت شہر کے کسی بھی ووٹر انکوائری سنٹر پر یہی عدم اطمینان اور ہنگامہ آرائی نظر آرہی ہے ۔ شہری تمام دستاویزات جمع کرانے اور ڈیجیٹل کے وائی سی (KYC) مکمل کروانے کے باوجود دوبارہ نوٹس ملنے پر عہدیداروں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کررہے ہیں کہ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد بھی انہیں دوبارہ نوٹس کیوں دیا گیا ہے ۔ ریاست میں گزشتہ 3 ماہ سے ووٹر سروے کیا جارہا ہے ۔ ایک بار پری سروے کے نام کام شروع ہوا تو اس کے بعد دوبارہ میاپنگ کی گئی ، بہت سے لوگ صبح کام پر نکل جاتے ہیں اور ان رات کو لوٹتے ہیں جبکہ کچھ اپنی ڈیوٹی کے سلسلہ میں دن بھر مختلف علاقوں میں گھومتے ہیں ۔ ان کے حالات کو سمجھے بغیر انتخابی عہدیدار نے میاپنگ نہ ہونے والے ووٹرس اور ووٹر تفصیلات میں غلطیوں والے زمرے کے لوگوں کو نوٹس جاری کردیئے ہیں ۔ تینوں اضلاع حیدرآباد ، رنگاریڈی اور میڑچل ملکاجگری میں جملہ 40 لاکھ ووٹرس کو نوٹس موصول ہوئی ہیں جن میں سے تقریباً 15لاکھ ایسے ہیں جن کی میاپنگ ڈیوٹی یا غیر موجودگی کے باعث نہیں ہوسکی تھی ، رائے دہندگان کے والدین کے ناموں میں Sur Name ہونا اور ان کا ریکارڈ ماں اور بچے کی عمر میں 18سال سے کم فرق ہونا جیسے معمولی وجوہات پر نوٹس دی گئی ہے ۔ برسوں پرانے شناختی کارڈس مانگنے پر کئی ووٹرس مایوس ہوکر یہ بحث کررہے ہیں کہ وہ اپنا ووٹ ہی چھوڑ دیں گے ۔ سنٹرل الیکشن کمیشن کی جانب سے بتائے گئے مخصوص شناختی کارڈس جنہیں انکوائری کیلئے قبول کیا جارہا ہے ، حکومت کی طرف سے جاری کردہ کوئی شناختی کارڈ یا تصویر والا پنشن کارڈ ، پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس (PSUS) NIC ، پوس آفس ، بینکوں ، مقامی اداروں ، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ جاری کردہ شناختی سرٹیفیکٹ ، مجاز اتھاریٹی کا جاری کردہ برتھ سرٹیفیکٹ ، درست پاسپورٹ ، 10 ویں جماعت یا یونیورسٹیز سے جاری کردہ تعلیمی قابلیت کا سرٹیفیکٹ ، رہائشی سرٹیفیکٹ ، محکمہ جنگلات کی طرف سے جاری کردہ حقوق کا سرٹیفیکٹ ، سرکاری طور پر جاری کردہ OBC – SC اور ST ذات کے سرٹیفیکٹس ،۔ 2014 سے پہلے کا جاری کردہ خاندان کے افراد کا سرٹیفیکٹ ، حکومت کی جانب سے جاری کردہ مکان اور زمین کے ٹائیٹل / شناختی کاغذات ، ووٹرس کیلئے راحت فراہم کی گئی ہے کہ کوئی بھی دستاویز جمع کراسکتا ہے ۔ اس پریشانی کے حل کیلئے الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ووٹر کو خود نوٹس کا جواب دینے کیلئے انکوائری سنٹر آنے کی ضرورت نہیں ہے ، وہ اپنے کسی نمائندے یا فیملی ممبر تفتیش کیلئے بھیج سکتا ہے ۔ تاہم اس کیلئے ERO ہو کہ وہ منظور شدہ شناحتی کارڈ کے ساتھ کسی خاص شخص کو اپنی نمائندگی کیلئے بھیج رہے ہیں ۔ 2