ووٹر لسٹوں کے SIR عمل کو ہلکے میں نہ لیں : کے ٹی آر

   

ایماندارانہ الیکشن پر بی آر ایس 100 حلقوں پر کامیاب ہوگی ، کے سی آر دوبارہ چیف منسٹر بنیں گے

حیدرآباد ۔ 17 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے پارٹی کیڈر کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی SIR کے عمل کو بالکل بھی ہلکے میں نہ لیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مغربی بنگال اور بہار کے انتخابات میں بڑی سیاسی جماعتیں صرف اس لیے ہار گئیں کیوں کہ انہوں نے ووٹر لسٹوں کی نظر ثانی کے اس اہم ترین مسئلے کو نظر انداز کردیا تھا ۔ کے ٹی آر نے پختہ یقین ظاہر کیا کہ اگر ریاست میں انتخابات مکمل طور پر ایمانداری اور شفافیت سے کرائے جائیں تو کے سی آر کی قیادت میں بی آر ایس 100 اسمبلی حلقوں کے ساتھ بھاری اکثریت سے دوبارہ حکومت بنائے گئی ۔ کھمم میں منعقدہ پالیر بی آر ایس جنرل باڈی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے ریاست میں سال 2002 میں ہونے والے SIR کے عمل کویاد دلایا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بار سال 2002 سے لے کر 2025 تک کے ووٹر لسٹ کے ڈیٹا کا میاپنگ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کیڈر سے کہا کہ یہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم الیکشن کمیشن کو لنک اور نان لنک ووٹوں سے متعلق ایک تفصیلی اور مکمل معلومات فراہم کریں ۔ اس معاملے میں کسی بھی سطح پر سستی اور غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ کے ٹی آر نے انتخابی عمل کی وسعت پر روشنی ڈالتے ہوئے اعداد و شمار پیش کئے انہوں نے بتایا کہ ریاست بھر میں 36 ہزار پولنگ بوتھ ہیں اور ووٹرس کی تعداد 3 کروڑ 39 لاکھ کے قریب ہیں جب کہ صرف ضلع کھمم میں 291 بوتھ موجود ہیں ۔ انہوں نے پارٹی قائدین کو ہدایت دی کہ وہ ہر ایک پولنگ بوتھ کے لیے ایک فعال اور ذمہ دار شخص ( بوتھ انچارج ) کا تعین لازمی طور پر کیا جائے جو ووٹر لسٹ کے عمل کی نگرانی کرسکے ۔ کے ٹی آر نے کیڈر کو یاد دلایا کہ یہ عمل آئندہ انتخابات کے لیے حتمی اور سب سے اہم ووٹر لسٹ ہونے جارہی ہے ۔ اس لیے یہ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی صورت میں کسی اہل اور حقیقی ووٹر کا نام ووٹر لسٹ سے منسوخ نہ ہونے پائیں ۔۔ 2/m/b