جسٹس وی ایس سرپورکر کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے اور خاطی عہدیداروں کے خلاف مقدمہ کی ہدایت : سپریم کورٹ کا فیصلہ
ایس ۔ ایم ۔ بلال
حیدرآباد : سپریم کورٹ نے آج وٹرنری ڈاکٹر دشا عصمت ریزی کیس ملزمین کے انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیتے ہوئے کیس کو تلنگانہ ہائیکورٹ کے حوالہ کردیا۔ چیف جسٹس این وی رمنا پر مشتمل بنچ نے آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے یہ کہاکہ جسٹس وی ایس سرپورکر کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے اور خاطی عہدیداروں کے خلاف قتل کے مقدمہ کے تحت کارروائی کی جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہاکہ وٹرنری ڈاکٹر دشا کی عصمت ریزی کے بعد شادنگر پولیس نے 4 ملزمین محمد عارف، جلو شیوا، جلو نوین اور سی ایچ چنا کیشولو کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے اُنھیں گرفتار کیا تھا اور بعدازاں 2019 ء میں شہر کے مضافاتی علاقہ چٹان پلی کی جھاڑیوں میں ایک انکاؤنٹر میں اِن چاروں ملزمین کو ہلاک کردیا گیا تھا جس پر مہلوکین کے ورثاء نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کے تحت درخواست داخل کرتے ہوئے پولیس کی کارروائی دستور کے خلاف ہونے اور خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس بی ایس سرپورکر، سابق سی بی آئی ڈائرکٹر کارتکین اور بامبے ہائیکورٹ کی سابقہ جج جسٹس ریکھا بلدوٹا پر مشتمل ایک کمیشن آف انکوائری قائم کرتے ہوئے اس معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ جسٹس بی ایس سرپورکر کمیشن نے احاطہ تلنگانہ ہائیکورٹ میں عوامی سماعت کے تحت اِس معاملہ کی تحقیقات کی تھی اور ہر زاویہ سے انکاؤنٹر سے متعلق تفصیلات اکٹھا کیا تھا۔ کمیشن نے سپریم کورٹ میں داخل کی گئی رپورٹ میں یہ کہاکہ پولیس نے جو من گھڑت کہانی نوجوانوں کے خلاف بنائی ہے وہ غلط ہے اور ناقابل قبول ہے۔ عدالت نے اپنی رپورٹ میں ظاہر کیاکہ چاروں نوجوانوں کی موت پولیس کی گولیوں سے ہوئی ہے اور پولیس کا یہ دعویٰ کہ ملزمین نے موقع واردات پر لیجانے کے دوران اُن پر حملہ کیا تھا اور دفاع کے تحت اُن پر گولیاں چلائی گئی تھیں۔ کمیشن نے اپنی تحقیقات میں یہ پتہ لگایا کہ کیس میں ملوث چاروں ملزمین نے پولیس پارٹی سے اُن کے ہتھیار نہیں چھینے تھے اور نہ ہی پولیس عہدیداروں کو زدوکوب کیا تھا۔ جسٹس سرپورکر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ تحقیقات کے پس منظر میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انکاؤنٹر میں ملوث 10 پولیس عہدیدار بی سریندر اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس شادنگر، کے نرسمہا ریڈی انسپکٹر، شیخ لعل مدار انسپکٹر، محمد سراج الدین پولیس کانسٹبل اور دیگر پولیس عملہ کے روی، کے وینکٹیشورلو، ایس اروند گوڑ، ڈی جانک رام، بالو راتھوڑ اور ڈی سریکانت نے تحویل میں موجود ملزمین کا قتل کرنے کی غرض سے اُن پر فائرنگ کی ہے اور دفاع کا دعویٰ غلط ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ واضح طور پر عدالت عالیہ کو بتایا کہ خاطی عہدیداروں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 302 (قتل) اور 201 (شواہد مٹانے کی کوشش کرنا) کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے اُن پر مقدمہ چلایا جائے۔ سرپورکر کمیشن نے اپنی تحقیقات میں یہ بھی پتہ لگایا کہ چاروں نوجوانوں میں 3 نوجوان جلو شیوا، جلو نوین اور سی ایچ چنا کیشولو نابالغ تھے اور اُن کا ہتھیار استعمال کرنا ناممکن ہے اور اگر موقع واردات سے بچ نکلنے کے لئے ملزمین فرار ہونے کی کوشش کرسکتے تھے لیکن پولیس پر حملہ کی کوشش نہیں کرتے اور پولیس کی اِس کہانی سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں نے پولیس پر فائرنگ نہیں کی اور نہتے نوجوانوں کو پولیس نے انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا۔ جسٹس سرپورکر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ انکاؤنٹر ہلاکتوں کے پس منظر میں سابق میں سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق تلنگانہ پولیس نے کارروائی نہیں کی ہے اور اُس کی خلاف ورزی کی ہے حالانکہ پولیس پارٹی کے ہر عہدیدار کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ تحویل میں موجود چاروں ملزمین کی حفاظت کریں نہ کہ اُن کا انکاؤنٹر میں قتل کردے۔ کمیشن نے سپریم کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ قومی انصاف حقوق کمیشن، سپریم کورٹ کے احکامات اور تلنگانہ پولیس مینول کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ کمیشن نے انکاؤنٹر کے معاملہ میں پولیس کی ایسی کئی خامیوں کو اُجاگر کیا ہے جس میں گرفتاری کے بعد اُن کے رشتہ داروں کو اطلاع فراہم کرنا اور وکیل سے ملاقات کی اجازت دینا اور شفاف طور پر ملزمین کی تفتیش کرنا شامل ہے۔ کمیشن نے متعلقہ مجسٹریٹ کی خامیوں کو بھی اُجاگر کیا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پولیس تحویل میں دینے کا وقت بھی غلط تھا اور مہلوکین کے طبی معائنہ کا وقت بھی غلط بتایا گیا ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ رائے ظاہر کی ہے کہ انصاف کے لئے ’’ہجومی تشدد‘‘ ناقابل قبول ہے ویسے ہی انکاؤنٹر بھی ناقابل قبول ہے۔ اس طرح کے جرائم کی سزا قانون کے دائرے کے تحت دینی چاہئے۔ چیف جسٹس این وی رمنا نے آج فیصلہ میں کہاکہ جسٹس وی ایس سرپورکر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ منظر عام پر لانا ضروری ہے کیوں کہ یہ تحقیقات عوامی سماعت کے تحت کی گئی تھی حالانکہ حکومت تلنگانہ کے وکیل نے عدالت سے یہ مسلسل درخواست کی تھی کہ کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ مہربند لفافے میں محفوظ رکھا جائے لیکن عدالت نے اس سے انکار کیا اور اس درخواست کو تلنگانہ ہائیکورٹ بھیج دیا۔