روش کمار
ایک طرف اپوزیشن قائدین بالخصوص راہول گاندھی کے احتجاج نے حکومت کو پریشان کر رکھا ہے تو دوسری طرف کاکروچ جنتا پارٹی کی جنتر منتر پر بھوک ہڑتال نے مودی حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے تیسری طرف طلباء پر پولیس کے تشدد نے سارے ملک میں برہمی کی لہر پیدا کردی ہے ۔ اس دوران چیف جسٹس آف انڈیا بھی وکلاء اور عوام کی تنقید کی زد میں آگئے ہیں ۔ انھوں نے عدالت میں کچھ یوں کہا ’’ہمارا وقت بربادمت کرو ہم ویڈیو نہیں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ہمارے پاس اس کیلئے وقت نہیں ہے ‘‘ ۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ان وکیلوں سے یہ بات کہی جو پولیس کی پرتشدد کارروائیوں کے خلاف سماعت کیلئے ایک درخواست داخل کی تھی۔ وکیلوں کا کہنا تھا کہ پولیس زیادتی کے بے شمار ویڈیوز ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہمارا وقت مت برباد کرو ، اگر میڈیا نے ان کے بیان کو ٹھیک ٹھیک ہی رپورٹ کیا ہے ۔ آپ سے درخواست ہے کہ ہماری رپورٹس دیکھئے ، ہمارے ویڈیوز دیکھئے آپ ( عوام ) کا وقت برباد نہیں ہوگا ۔ کیا دہلی پولیس نے 20جولائی کو پیلٹ گن کا استعمال کیا ہے ؟ اگر کیا ہے تو اس سے سنگین بات کچھ اور نہیں ہوسکتی پیلٹ گن کے استعمال سے بچے اندھے ہوسکتے تھے ۔ اس گن میں دھاتوں کے چھرے ہوتے ہیں ۔ جسم میں دھنس جاتے ہیں ، آنکھوں میں لگتے ہیں تو جزوی طورپر یا پوری طرح بینائی ختم کردیتے ہیں ۔ دہلی پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال سے انکار کیا ہے مگر یہ اتنا سنگین معاملہ ہے کہ یکطرفہ انکار سے بات پوری نہیں ہوتی ۔ اسکولوں کے بچے جنتر منتر کے احتجاج میں گئے تھے اگر پیلٹ گن سے ان کی آنکھوں کی روشنی کو نقصان ہوتا تو اس سے خطرناک کچھ بھی نہیں ہوسکتا ۔
سال 2016 ء میں جموں و کشمیر میں پیلٹ گن استعمال کئے گئے تھے جس میں کئی لوگوں کی بینائی جانے کی خبریں آئیں تھیں ، اس وقت ملک مسلمانوں کے تئیں نفرت میں اور زیادہ ڈوبا ہوا تھا ۔ کشمیر کا کچھ پتہ نہیں مگر ہر ہاؤزنگ سوسائٹی میں کشمیر کا ایک اکسپرٹ بن گیا تھا وہاں پیلٹ گن کے استعمال پر لوگ چپ رہ گئے اس لئے اگر یہ دہلی میں استعمال ہوا ہے تو بیحد سنگین معاملہ ہے ۔ وجیتا سنگھ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ یہ پارلیمنٹ چلو مارچ کا پہلا معاملہ ہے جس میں عام شہری پر پیلٹ گن چلنے کی بات سامنے آئی ہے ۔ ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے جس میں ایک لڑکی پر شاک بیاٹن کا استعمال ہوا ہے ۔ اس چھڑی میں ہلکا سا کرنٹ ہوتا ہے جو کسی کو جھٹکہ دے کر سن کرسکتا ہے ۔ وجیتا سنگھ کی رپورٹ پر پولیس کی تردید آئی ہے ۔ ریاپڈ ایکشن فورس کی تعینیاتی دہلی پولیس کی درخواست پر کی گئی تھی ، اس کے علاوہ دہلی پولیس کے ہینڈل سے شاک بیاٹن ، کیلوں والی چھڑی کے استعمال کو لیکر بھی Fact Check آیا ہے ۔ دہلی پولیس نے انکار کیا ہے ۔
21 جولائی کو سوشل میڈیا میں شیخ ارشاد منصوری کی تصاویر وائرل ہونے لگی ۔ دہلی پولیس نے اس دن کہدیا کہ خبر غلط ہے۔ سی جے پی کے ترجمان سوربھ نے شیخ کا ویڈیو پوسٹ کیا تو اس کے نیچے ڈی سی پی نئی دہلی کا بیان آگیا کہ یہ فیک نیوز ہے ۔ ایسی خبریں پوری طرح سے بے بنیاد ہیں ۔ اس کے دوسرے دن ہندو کی خبر آئی ہے۔ شیخ ارشاد منصوری اسپتال میں ہیں ان کے علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی پریس کانفرنس ہونی چاہئے ۔ پولیس کیوں اُن کی طرف سے تردید کررہی ہے ۔ جس اسپتال میں شیخ ارشاد شریک ہیں کیا اس کے ڈاکٹروں نے بھی تردید کی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ وہاں بھی سب کچھ Manage ہوجائے لیکن اس پولیس نے ابھی تک ان سفید لباس والے لوگوں کے بارے میںکچھ بھی کیوں نہیں کہا ؟
20 جولائی کو دہلی میں اتنا تشدد ہوا ، 21 جولائی کا پورا دن گذرگیا اور 22جولائی کا آدھا دن بھی گذرگیا ۔ دہلی پولیس نے ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی ۔ اب تو احتجاجی مودی جی سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ جنتر منتر پر احتجاج میں شامل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈس دیکھے گئے ہیں جن پر مودی جی سے استعفیٰ کی مانگ کی گئی ہے ۔ پلے کارڈ پر لکھا ہوا ’’مودی جی اب آپ ہی اس ملک کو بچاسکتے ہیں اپنا استعفیٰ دے کر ‘‘ ۔ ایک اور پوسٹر پر کچھ یوں لکھا تھا ’’ گھٹنوں کے بل زندگی جینے سے اچھا ہے کھڑے رہ کر مرجانا ‘‘ ۔ اس پوسٹر کے بعد ایک اور پوسٹر میں لکھا ہے کہ ’’دھرمیندر پردھان پہاڑ ہیں تو ہم بھی دسرتھ مانجھی ہیں جب تک اس پہاڑ کو توڑیں گے نہیں تب تک چھوڑیں گے نہیں ‘‘۔
بہار کے دسرتھ مانجھی جنھوں نے پہاڑ کاٹ کر راستہ بنادیا ، ان پر فلم بھی بنی اُنھیں جنتر منتر پر پھر سے یاد کیا جارہا ہے ۔ اب تو واجپائی کی نظم کے اشعار مودی حکومت کے خلاف احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں ۔ جنتر منتر کے احتجاج نے ملک بھر میں احتجاج کی زبان کو پوری طرح بدل دیا ۔ سارے کے سارے اُصول بھی بدل گئے ۔ ایک پوسٹ میں یہاں تک کہا گیا کہ ’’ڈائپر بھی لیک نہیں کرتا پیپر لیک ہوجاتا ہے‘‘۔ ایک اور پلے کارڈ میں ایک طالبہ مطالبہ کررہی ہے کہ ’’آخر اچھے دن کب لیک ہوں گے ‘‘۔ 2014 ء میں مودی نے خود کو پردھان سیوک کہا تھا ۔ نہرو کی یہ لائن مشہور ہوگئی مودی کے نام سے اور اب پبلک نے اس لائن کی ایسی تیسی کردی ہے ۔ یہاں من کی بات Monkey Baat میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ وزیراعظم کو تم اور تو کہکر مخاطب کررہے ہیں نعروں میں بھی اور لکھنے میں بھی 56″ کا چھوٹا بندر بھاگ نریندر بھاگ نریندر جیسے نعرے بھی بچے لگارہے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں نے ایسے نعرے بلند کرنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے ۔
طلباء انگریزی اور ہندی کا اچھا استعمال کرنے لگے ہیں۔ Gen Z کی زبان بتارہی ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کو الیکشن کمیشن سے لیکر سپریم کورٹ تک کو اپنا اعتماد اور بھروسہ نئے سرے سے حاصل کرنا پڑے گا ۔ چیف جسٹس نے بھلے انکار کردیا اور کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا لیکن کاکروچ جنتا پارٹی اسی توڑ مروڑ کر پیش کئے گئے بیان سے نکل گئی جو اُن کے نام سے شائع ہوا ۔ کاکروچ ہندوستانی سیاست کا ہیرو بن گیا یہ کس نے سوچا تھا کہ حالات اس قدر بگڑ جائیں گے اور مودی حکومت کے قابو سے باہر ہوجائیں گے ۔ بہرحال اس نعرہ پر مضمون ختم کرتا ہوں جو بچوں نے استعمال کیا ’’وہ ڈرتا ہے کہیں ہم اُس سے ڈرنا نہ چھوڑ دیں‘‘ ۔