دوسرے ہزارہ کے مجدد قوم زماں حضرت شیخ احمد سرہندی کے تجدیدی انقلاب کو تاقیام قیامت یاد رکھا جائے گا۔ آپ نے جس اسلوب و پیرائے میں اسلام کی خدمت اور تجدید کے فریضہ کو ادا کیا، وہ تاریخ کے سینے پر سنہرے حروف کے ساتھ موجود ہے۔
دین اسلام کے ایک ہزارہ کے اختتام پر دنیائے اسلام میں بگاڑ، فتنہ و فساد اور انتشار اس عروج کو پہنچا کہ دین اسلام کی حقیقت مسخ ہونے لگی تھی۔ جلال الدین اکبر کی عظیم سلطنت کا اثر سارے عالم اسلام پر تھا۔ اکبر اعظم کی ابتدائی زندگی دین اسلام کی عظمت و احترام سے وابستہ تھی۔ وہ خود اذان کہتا تھا۔ حصول ثواب کے لئے مسجد کی صفائی کا اہتمام کرتا تھا۔ ہر سال ایک بڑی تعداد کو سرکاری خرچ پر حج بیت اللہ کے لئے روانہ کرتا تھا۔ حضرت شیخ سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا معتقد تھا۔ جہانگیر کا نام حصول برکت کے لئے سلیم رکھا۔ ولادت سے قبل جودھا بائی کو حضرت شیخ سلیم چشتی کے گھر بھجوادیا تھا، تاکہ توجہ اور دعاء حاصل رہے۔ چنانچہ سلیم کی ولادت حضرت شیخ کے گھر میں ہوئی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے اسلام پسند بزرگوں کے عقیدت مند بادشاہ وقت کے ذہن و دماغ کو دنیادار علماء نے اسلام سے بیزار کردیا۔
ایک مرتبہ غیر مسلم پیشوا نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کی۔ شیخ عبد النبی صدر الصدور نے بعد تحقیق قتل کی سزا سنائی۔ غیر مسلمین نے جودھا بائی سے سفارش کرنے کے لئے کہا۔ جودھا بائی نے سزا معاف کرنے کے لئے مختلف تدبیریں کیں۔ بادشاہ وقت سے سفارش کی۔ بادشاہ نے ملا مبارک سے گستاخ رسول کی سزا کے بارے میں دریافت کیا تو اس دنیادار عالم نے بادشاہ وقت کے ذہن و دماغ کو پڑھتے ہوئے شریعت اسلامیہ کو بالائے طاق رکھ دیا اور بادشاہ سے کہا کہ آپ امام اور مجتہد وقت ہیں، آپ کو اپنے فرمان کے اجراء میں خواہ دینی ہو یا دنیوی، کسی عالم دین کی مدد کی ضرورت نہیں۔ دھیرے دھیرے ایک محضر نامہ تیار ہوا، جس میں یہ صراحت تھی کہ اللہ تعالی کے نزدیک انصاف پسند بادشاہ کا درجہ مجتہد کے درجے سے زیادہ ہے اور بادشاہ سب سے زیادہ عقل و دانش کے حامل اور انصاف کرنے والے ہیں۔ مجتہدین کے باہمی اختلافات میں اپنی ذہن رسا اور اصابت رائے سے انسانیت کی آسانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی ایک پہلو کو ترجیح دیں تو بادشاہ کا فیصلہ قطعی اور اجماعی فیصلہ ہوگا۔ اس پر سب نے دستخطیں کیں۔ پھر ایک نعرہ بلند ہوا کہ پیغمبر اسلام کی بعثت کے ہزار سال پورے ہوچکے ہیں، جو اس دین کی طبعی عمر ہے، اب نئے دین کی ضرورت ہے۔ اس طرح نیا آئین، نیا حاکم، نیا شارع، نیا ہزارہ، نیا دین کی صدائیں گونجنے لگیں۔ پھر اکبر کو تمام رعایا کو خوش رکھنے کے لئے وحدت ادیان کا خیال آیا۔ اس تصور نے دین اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیا۔ بادشاہ کے دربار میں عیسائی، یہودی، زرتشتی، مجوسی، ایرانی وفود کی آمد ہونے لگی۔ ہر ایک اپنے مذہب کی اچھائیاں بیان کرتا اور اسلام کے خلاف کہتا۔ اکبر کے دربار میں موجود علماء پر اس کا ذرہ برابر اثر نہ ہوتا۔ دھیرے دھیرے اسلام کے احکامات پر اعتراضات ہونے لگے۔ نبوت، عقائد، ارکان، اصول و فروع، حشر و نشر کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کئے گئے۔ واقعۂ معراج کی تضحیک کی گئی۔ مشاجرات صحابہ بیان کرکے اسلام سے بیزار کیا گیا۔ ارکان اسلام کا نام تقلیدات رکھا گیا۔ آتش پرستوں کی تائید کے لئے شیخ ابوالفضل کی نگرانی میں رات دن آگ روشن کرنے کا حکم ہوا۔ اسلام کے خلاف جو حکم ہوتا بادشاہ اس کو نص قاطع خیال کرتا۔ بادشاہ کے پاس جو مردود ہوتا اس کو فقیہ کا نام دیا جاتا۔ بادشاہ کو دیکھنا عبادت سمجھا گیا اور اس کو سجدہ کرنا روا رکھا گیا۔ سود اور جوا حلال کردیئے گئے۔ جوا گھر بنایا گیا۔ سود کے لئے قرضے دیئے جانے لگے۔ شراب حلال ہو گئی، پردہ کے احکامات کو معطل کردیا گیا۔ متعہ کو جائز گردانا گیا۔ داڑھی منڈانے کا حکم ہوا۔ غسل جنابت لازم نہ ہونے کا اعلان کیا گیا۔ مذہبی کتابوں کی اشاعت روک دی گئی۔ عطا کی گئی جاگیریں ختم کردی گئیں۔ اس طرح عقائد، عبادات، معاملات، نظریات اور تعلیمات، غرض ہر سطح پر فتنہ اور خرابیوں کا ظہور ہوا۔ علماء کے پیش نظر صرف دنیا داری تھی۔ اکبر کے دربار میں ہندو راجاؤں کی لڑکیاں بیگمات بن کر آنے لگیں۔ ارباب حکومت سیاسی مفادات کو ترجیح دینے لگے۔ صوفیۂ خام شریعت کو ظاہر پرستوں کا کھلونا سمجھنے لگے۔ نماز کو غیرت پر مبنی سمجھتے، مختلف ریاضتیں کرتے۔ جمعہ اور جماعت سے سہل انگاری کرتے۔ مجازی عشق کو حقیقی عشق کا ذریعہ بناتے۔ علماء، ارباب حکومت، صوفیہ، جو اصلاح اور ارشاد کے منصب پر فائز تھے، انھیں سے فتنہ و فساد جنم لینے لگے۔
ایسے پرآشوب دور میں اللہ تعالی نے دین اسلام کی حفاظت کے لئے حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی کو منتخب فرمایا۔ آپ کی روشن سوانح میں سرکار دوعالم ﷺ کی سیرت کے جلوے نظر آتے ہیں۔ آپ نے سرہند کے ایک گوشہ میں مقیم رہ کر اپنی شخصیت کو اتباع سنت کا اعلی نمونہ بنایا اور اپنی خانقاہ سے ہزارہا مریدین کی اصلاح فرماکر تبلیغ اسلام کے لئے ایک زبردست کھیپ تیار کی اور نیچے سے اصلاح کرنے کی بجائے آپ نے اوپر سے اصلاح کا طریقہ اختیار کیا اور بتداء میں امراء اور ارباب حکومت کے ذہن و دماغ کو موڑا اور اُن کے دل و دماغ میں اسلام کی عظمت و شوکت کو جاگزیں کیا۔ اسلامی حمیت اور جوش ایمان کو این کے دلوں میں موجزن کیا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے خلفاء کو روانہ کیا۔ مکتوبات کے ذریعہ ارکان سلطنت کو ہدایت دیتے رہے، جس کے نتیجے میں جہانگیر کے مزاج میں تبدیلی آتی گئی۔ جہانگیر کے دربار میں ایک سازش کے تحت آپ کو بلایا گیا۔ آپ نے آداب شاہی کو ملحوظ نہیں رکھا۔ جہانگیر کو سجدہ نہیں کیا، جس کے نتیجے میں آپ کو گوالیاں کے قلعہ میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ اللہ تعالی کے فضل سے قید ہی میں سیکڑوں غیر مسلم آپ کی تبلیغ سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے، بالآخر جہانگیر ایک پریشانی میں مبتلاء ہوا اور آپ کی طرف متوجہ ہوا۔ اللہ تعالی نے آپ کی توجہ سے اس کی پریشانی کو ختم کردیا اور وہ آپ کے عقیدت مندوں میں شامل ہو گیا۔ بادشاہ کا سدھرنا کیا تھا، درحقیقت ساری سلطنت کا سدھار تھا۔ اسی بناء پر سارا عالم اسلام آپ کو متفقہ طورپر دوسرے ہزارہ کا مجدد تسلیم کرتا ہے۔حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے سرہند کے ایک گوشے میں رہ کر ساری سلطنت میں انقلاب برپا کیا اور فتنہ و فساد کی جڑوں کو ختم کیا۔ اسلام کی حفاظت کی، احکامات دین کو قائم فرمایا، اسلام کی شوکت کو بحال کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ ساری کرشمہ سازی درحقیقت اتباع نبوی ﷺ کی برکت ہے۔آج بھی ہم اپنی زندگی میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں، دنیا میں انقلاب لانا چاہتے ہیں، دین اسلام کی سربلندی کیلئے کوشش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اتباع نبوی کو لازم کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر اصلاح، ارشاد، تبدیلی اور انقلاب کا کوئی تصور نہیں۔