ویجلینس تحقیقاتی رپورٹ میں میڈی گڈہ بیاریج میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا انکشاف

   

مرکزی ٹیم نے پہلے ہی نشاندہی کی تھی، اسمبلی میں ریاستی وزیر سریدھر بابو کا انکشاف
حیدرآباد۔/13 فروری، ( سیاست نیوز) وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے الزام عائد کیا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے کالیشورم اور میڈی گڈہ پراجکٹ کی تعمیرات پر خصوصی توجہ نہیں دی جس کے نتیجہ میں نہ صرف بیاریج کا کام ناقص رہا بلکہ عوامی رقومات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ مرکزی حکومت کے ڈیام سیفٹی اتھاریٹی عہدیداروں نے پراجکٹ کی ڈیزائننگ اور عمل آوری میں نقائص پر توجہ دلائی تھی لیکن حکومت نے مرکزی ٹیم کی تجاویز کو مسترد کردیا۔ اسمبلی میں خصوصی تذکرہ کے تحت سریدھر بابو نے کالیشورم اور میڈی گڈہ پراجکٹ کی تعمیر میں دھاندلیوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو حقائق سے واقف کرانے کیلئے میڈی گڈہ دورہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ریاست کے عوام پراجکٹ میں بے قاعدگیوں سے واقف ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسراقتدار آنے پر ناقص تعمیرات اور ری ڈیزائننگ کے نام پر بھاری رقومات کے خرچ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ریاستی وزراء کی ٹیم نے سابق حکومت کے عہدیداروں کے ساتھ پراجکٹ کا دورہ کیا اور رپورٹ حاصل کی۔ حکومت نے میڈی گڈہ بیاریج کے پُلوں کے غرقاب ہونے کی ویجلینس اینڈ انفورسمنٹ سے تحقیقات کا حکم دیا اور ویجلینس نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے۔ سریدھر بابو نے بتایا کہ کانگریس کے علاوہ بی آر ایس، بی جے پی، مجلس اور سی پی ایم ارکان کو دورہ کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے ناقص تعمیرات کا مشاہدہ کرسکیں۔ اسمبلی انتخابات کے موقع پر مرکزی حکومت کے ڈیام سیفٹی اتھاریٹی عہدیداروں نے میڈی گڈہ کا دورہ کیا تھا لیکن بی آر ایس حکومت نے عہدیداروں کی توجہ دہانی کو نظرانداز کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں پراجکٹس کی تعمیر کو 40 سال مکمل ہوگئے لیکن کسی بھی پراجکٹ میں آج تک کوئی خرابی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور عوامی رقومات کے بیجا استعمال کو ویجلینس رپورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ میڈی گڈہ ، انارم اور سندیلا بیاریجس کی تعمیر کیلئے کسانوں نے اپنی اراضیات اور مکانات حکومت کے حوالے کئے تھے لیکن آج کسانوں کو اس بات کا افسوس ہے کہ پراجکٹ کی تعمیر میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور ان کی قربانیاں رائیگاں ثابت ہوئیں۔ بی آر ایس رکن ہریش راؤ نے اسپیکر سے دریافت کیا کہ وزیر امور مقننہ کو کس طرح اظہار خیال کی اجازت دی گئی ہے۔ اسپیکر پرساد کمار نے کہا کہ اسپیکر کے اختیارات کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور کل ایوان میں آپ نے بھی سیاسی تقریر کی تھی۔1